ایرانی سیٹلائٹ روسی سوئیوز راکٹ کے ذریعے کل خلا میں روانہ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
ایران رواں ہفتے ایک روسی سوئیوز راکٹ کے ذریعے اپنا سیٹلائٹ خلا میں بھیجے گا۔ یہ پرواز روس کے ووستوچنی کوسموڈروم سے ایک کثیر سیٹلائٹ مشن کا حصہ ہے۔
ایرانی سیٹلائٹ کو جمعہ، 25 جولائی 2025 کو صبح 9:54 بجے (ایران کے وقت کے مطابق) روس کے مشرق بعید علاقے میں واقع ووستوچنی کوسموڈروم سے روانہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی میزائل حملے میں امریکی ایئربیس نشانہ بنا، بالآخر پینٹاگون مان گیا
اس مشن میں سوئیوز راکٹ دو بڑے سیٹلائٹس ’آئیونوسفئیر-ایم نمبر 3 اور 4‘ کے ساتھ 18 چھوٹے سیٹلائٹس بھی خلا میں لے کر جائے گا۔
یہ لانچ روس کے جاری کثیر سیٹلائٹ پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد سائنسی، تحقیقی اور تجارتی سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں پہنچانا ہے۔
روسی خلائی ایجنسی نے 22 جولائی کو راکٹ کو ووستوچنی کے لانچ پیڈ 1-ایس پر نصب کر دیا تھا تاکہ مشن کی تیاری مکمل کی جا سکے۔
لانچ سے پہلے راکٹ پر ایرانی خلائی ایجنسی اور ایرانی خلائی تحقیقاتی مرکز کے لوگوز بھی چسپاں کیے جا چکے ہیں، جو اس مشن میں ایران کی شرکت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی شہر پر 5 ڈرون حملے ممکن ہیں، ایران کے سابق اعلیٰ عہدیدار کی وارننگ
تاہم روسی حکام نے چھوٹے سیٹلائٹس کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں، جیسے کہ ان کا تعلق کن ممالک سے ہے یا ان کے مخصوص مقاصد کیا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران ایرانی سیٹلائٹ خلا روس ووستوچنی کوسموڈروم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران ایرانی سیٹلائٹ خلا
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔