میٹرنگ منصوبے کی پالیسی میں ترمیم کا فیصلہ، سولر سسٹم صارفین کیلئے بڑی خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
شاہد سپرا: وفاقی حکومت کا نیٹ میٹرنگ منصوبے کی پالیسی میں ترمیم کا فیصلہ, صارفین کو منظور شدہ لوڈ کے برابر نیٹ میٹرنگ سہولت دینے کی تجاویز پر کام شروع.
صارفین کو منظورشدہ لوڈ سے 1.5فیصد اضافی سسٹم لگانے کی اجازت دی گئی, ترمیم کے بعد صارفین منظور شدہ لوڈ کے مطابق سولر سسٹم نصب کر سکیں گے.
ترمیم کے ذریعے سولر سسٹم کے ذریعے سسٹم پر بڑھتے لوڈ کو کم کیا جا سکے گا، گھریلو، کمرشل، انڈسٹریل اور ٹیوب ویلز کے کنکشنز پر فیصلہ لاگو ہو گا۔
وزارت پاور ڈویژن منظور شدہ لوڈ کی بنیاد پر نیپرا میں درخواست دائر کرے گی، نیپرا درخواست پر سماعت کرنے کے بعد پالیسی میں ترمیم کرے گی، ترمیم پر صارفین کومنظور شدہ لوڈ کےمطابق سولر سسٹم لگانے کی اجازت ہو گی۔
آخر کیوں ؟17 اپریل ،2025
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔