امریکی ٹیرف سے نالاں چینی عوام میں ’ٹرمپ ٹوائلٹ برش‘ کی مقبولیت
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیروڈی کے طور پر ڈیزائن کیے گئے چینی ساختہ ٹوائلٹ برش کی گھریلو فروخت میں چین اور امریکہ کے درمیان ٹیرف کی جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پیلا ٹرمپ ٹوائلٹ برش نیا نہیں ہے۔ یہ امریکی صدر کے دفتر میں پہلی مدت کا ہے، جب چین اور امریکا دونوں میں، ان کی مقبولیت کی وجہ سے چینی فیکٹریاں ٹرمپ کی تھیم والی مصنوعات تیار کر رہی تھیں۔
لیکن اب چینی اشیا پر ٹرمپ کے زیادہ ٹیرف لگانے کے بعد امریکی صدر کا مذاق اڑانے کے لیے چینی عوام یہ مضحکہ خیز ٹوائلٹ برش خرید رہے ہیں۔
ییوو نامی چینی شہر میں بہت سی چھوٹی فیکٹریاں ہیں جو کم لاگت والی پلاسٹک کی مصنوعات تیار کرتی ہیں جن میں سے ایک یہ ٹرمپ تھیم والا ٹوائلٹ برش ہے۔
جب سے امریکا اور چین کے درمیان ٹیرف کی جنگ بڑھی ہے تب سے چین میں امریکا مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی سوشل میڈیا پر امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے والی پوسٹیں کی جارہی ہیں اور کچھ کاروباری اداروں نے اپنی خدمات پر بھی ٹیرف لگا کر جوابی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹوائلٹ برش
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔