این اے 213 عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن کا سرکاری نتیجہ جاری، پیپلز پارٹی کی امیدوار کامیاب قرار
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
ریٹرننگ افسر نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 213 میں گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ریٹرننگ افسر کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق این اے 213 عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کی صبا تالپور ایک لاکھ 61 ہزار 934 ووٹ لےکر کامیاب رہیں۔سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار لال چند مالہی 81 ہزار 160 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔خیال رہے کہ این اے 213 عمر کوٹ کی نشست پیپلز پارٹی کے رہنما نواب یوسف تالپور کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔واضح رہے کہ این اے 213 عمر کوٹ کی نشست پیپلزپارٹی کے رہنما نواب یوسف تالپور کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں کامیابی کو جیالوں کی محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے آج حیدرآباد میں جشن منانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب آزاد امیدوار لال چند مالہی نے الیکشن نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ڈی آر او آفس کے سامنے دھرنا دیا اور آج ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔