آرمی ایکٹ میں اگر سویلینز کو لانا ہوتا تو اس میں الگ سے لکھا جاتا: آئینی بنچ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 April, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بنچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ آرمی ایکٹ میں اگر سویلینز کو لانا ہوتا تو اس میں الگ سے لکھا جاتا۔

جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بنچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلوں کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی، عدالت نے خواجہ حارث کو آج دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ پک اینڈ چوز کس طرح سے کیا گیا؟

وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ پک اینڈ چوز والی بات نہیں ہے، جو جرم ہو اس کے مطابق دیکھا جاتا ہے، کیس نوعیت کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت یا ملٹری کورٹ میں بھیجا جاتا ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ کیا سویلینز اس کے زمرے میں آتے ہیں، یہاں پر بات صرف فورسز کے ممبر کو ڈسپلن میں رکھنے کے لیے ہے، جہاں پر کلیئر ہو کہ یہ صرف ممبرز کے لیے ہے وہاں پر مزید کیا ہونا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر کوئی سویلین آرمی انسٹالیشنز پر حملہ کرتا ہے تو اس کا اس سے کیا تعلق ہے؟

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ یہ صرف ممبرز کے لیے ہے اور اگر آرمی ایکٹ میں سویلینز کو لانا ہوتا تو پھر اس میں الگ سے لکھا جاتا، 1973 کے آئین میں بہت سی چیزیں پہلے والے دو آئین سے ویسے کی ویسی آگئیں۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس میں کہا کہ مارشل لا ادوار میں 1973 کے آئین میں بہت سی چیزیں شامل کی گئیں، آئینی ترمیم کر کے مارشل لا ادوار کی چیزیں تبدیل کر کے 1973 کے آئین کو اصل شکل میں واپس لایا گیا لیکن اس میں بھی آرمی ایکٹ کے حوالے سے چیزوں کو نہیں چھیڑا گیا۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری کورٹ کارروائی کو آئین توثیق کرتا ہے اور کورٹ مارشل آئینی طور پر تسلیم شدہ ہے، کورٹ مارشل زمانہ جنگ نہیں زمانہ امن میں بھی ہوتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب ایسا نہ ہو نمازیں بخشوانے آئیں اور روزے گلے پڑ جائیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سیکشن 2 ون ڈی ون 1967 میں شامل کیا گیا، یہ سیکشن 1962 کے آئین کے نیچے بنایا گیا، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 202 کے تحت دو طرح کی عدالتیں ہیں، ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری کا قانون آئین سے ٹکراتا ہے، ہمارا 1973 کا آئین بڑا مضبوط ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ فیئر ٹرائل کورٹ مارشل کارروائی میں بھی ہوتا ہے، پریذائیڈنگ افسران قانونی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔

جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ ملٹری کے 12 سے 13 تنصیات پر حملے ہوئے، ملٹری تنصیبات پر حملے سکیورٹی کی ناکام تھی اور اس وقت ملٹری افسران کے خلاف کارروائی کی گئی تھی؟ کیا 9 مئی پر کسی ادارے نے احتساب کیا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ اس سوال کا جواب اٹارنی جنرل دیں گے۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر خواجہ حارث کا شکریہ ادا کیا اور فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت 28 اپریل تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نے ریمارکس دیئے کہ ا رمی ایکٹ میں خواجہ حارث نے کہا کہ کے ا ئین کورٹ ا

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان