قرضوں سے جان چھڑانی ہے تو ریونیو بڑھانا ہوگا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کا کام شروع ہوچکا ہے تاہم یہ سفر کافی طویل ہے اس کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنی ہوں گی۔
یہ بات انہوں نے ایف بی آر ہیڈ کوارٹر کے دورے میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کا کام شروع ہوچکا ہے تاہم یہ سفر کافی طویل ہے اس کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنی ہوں گی، پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے شبانہ روز محنت ناگزیر ہے۔
انہوں ںے کہا کہ عدالتوں میں زیر التوا کھربوں روپے مالیت کے ٹیکس کیسز کا فیصلہ ضروری ہے، سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے دو اسٹے آرڈر ختم کرنے سے قومی خزانے میں اربوں روپے آئے یہ صرف دو فیصلے تھے ایسے کتنے کیسز حل ہوں گے تو خزانے میں کھربوں روپے آئیں گے، ٹیکس محصولات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ لائق ستائش ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قرضوں سے نجات کے لیے اہداف پر تیزی سے کام جاری ہے، قرضوں سے جان چھڑانی ہے تو آمدنی بڑھانی ہوگی، محنت کرنی ہے اور ملک کو قرضوں سے نجات دلانی ہے ورنہ قرض کے پہاڑ بڑھتے جائیں گے اور آئی ایم ایف سے کبھی چھٹکارا نہیں مل سکے گا۔
قبل ازیں دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو پرال (PRAL)، ڈیجیٹل انوائسنگ اور پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کے حوالے سے بریفنگ کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کے نئے ڈلیوری یونٹ کا دورہ کرایا گیا اور افسران سے ملاقات کروائی گئی۔
وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ ایف بی آر میں ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلہ سازی کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے جس میں نادرا، بینکنگ اور دیگر شعبوں سے ادائیگیوں و اثاثہ جات کی خریداری کا ڈیٹا لیا جا رہا ہے، ایف بی آر کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے اور ٹیکس بیس میں اضافے کیلئے ایف بی آر جدید و خودکار نظام کے اطلاق کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کے ایف بی آر کی اصلاحات و ڈیجیٹائیزیشن کے ویژن کے مطابق پوری ویلیو چین کو ڈیجیٹائیز کیا جارہا ہے اس کے علاوہ ڈیجیٹل انوائسنگ کی تمام تر تیاریاں مکمل ہیں جسکا جلد اجراء کر دیا جائے گا۔
بریفنگ کے دوران مزید بتایا گیا کہ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس گوشواروں کو مزید آسان کر دیا گیا ہے، نئے نظام کے تحت 35 سے زائد ایسی مزید کمپنیاں ٹیکس نظام میں شامل ہوگئی ہیں۔
افسران کی کارکردگی جانچنے کیلئے خودکار اور ڈیجیٹل نظام کا اجراء
وزیرِ اعظم نے ایف بی آر کے افسران کی کارکردگی کو بہتر کرنے اور سزا و جزاء کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے افسران کی کارکردگی کی جانچ کیلئے مکمل طور پر خودکار اور ڈیجیٹل نظام کا اجراء بھی کیا، نظام کے تحت افسران کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں مالی فوائد اور ترقی میسر ہو سکے گی۔
وزیرِاعظم کو ایف بی آر کے نئے قائم کردہ ڈیلیوری یونٹ کا دورہ بھی کروایا گیا جس میں افسران سے ملاقات کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے نظام کا جائزہ بھی لیا۔
وزیرِ اعظم نے نظام کی تعریف کی اور کہا کہ ایف بی آر ڈیلیوری یونٹ کے افسران ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، پر امید ہوں کہ یہ ملک کے ٹیکس نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ملکی آمدن میں اضافے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افسران کی کارکردگی ایف بی آر
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔