افغان وفد کی ملاقاتیں، پاکستان نے مہاجرین کیلئے رعایت سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
افغان وفد کی ملاقاتیں، پاکستان نے مہاجرین کیلئے رعایت سے انکار کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 18 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ 40سال افغان بھائیوں کی میزبانی کی، پاکستان کی جواستطاعت تھی اس کے مطابق افغان شہریوں کی خدمت کی۔افغان وزیرصنعت و تجارت نورالدین عزیزی اور انکیوفد کی جانب سے افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے پاک،افغان عالمی تنظیموں کی مشترکہ کمیٹی کی تجویز پیش کی گئی ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ افغان حکومت سے وزارتِ خارجہ رابطے میں ہے۔ یکم اپریل سے آج تک 84769 افغان واپس جا چکے ہیں۔طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلہ میں اے سی سی سی کارڈ ہولڈر کو ملک واپس بھیجا جارہا ہے ، 25000 اے سی سی کارڈ ہولڈربھی واپس جاچکے ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی ہے کہ ون ڈاکیومنٹ رجیم کے تحت دنیا بھر سے کوئی تعلیم، علاج اور سیروسیاحت کے لیے ویزا لے کر قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان آ سکتا ہے۔
افغانستان کی افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے پاک افغان عالمی تنظیموں کی مشترکہ کمیٹی کی تجویز سامنے آئی ہے۔یہ تجویز افغان وزیرصنعت و تجارت نورالدین عزیزی اور ان کے وفد نے پیش کی ہے۔ترجمان افغان سفارت خانہ کے مطابق تجویز وزارت داخلہ میں افغان وفد کی وزیر مملکت طلال چوہدری اور دیگر حکام سے ملاقات میں دی گئی-ملاقات میں دو طرفہ تجارت، ٹرانزٹ اور افغان مہاجرین سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق طلال چوہدری نے کہا کہ غیر دستاویزی تارکین وطن بھی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہیں، 2023 پاکستان نے تمام ممالک کے لیے دستاویزی نظام کی پالیسی کا اعلان کیا۔پاکستان میں داخل ہونے والوں پاس قانونی دستاویزات کا ہونا ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفد کی
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔