مناہل ملک کی گانے میں ذاتی کلپ استعمال کرنے پر گلوکار کو قانونی کارروائی کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
ٹک ٹاکر مناہل ملک نے گلوکار عمیر اعوان پر ان کے گانے پر ذاتی کلپ استعمال کرنے کا الزام عائد کردیا۔
ٹک ٹاکر مناہل ملک نے الزام عائد کیا ہے کہ گلوکار عمیر اعوان نے اپنے حالیہ گانے ’لارے آ‘ میں ان کا ذاتی کلپ بغیر اجازت استعمال کیا ہے۔
مناہل نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ عمیر اعوان 24 گھنٹے کے اندر یہ گانا ڈیلیٹ کریں کیونکہ اس میں ان کی ذاتی ویڈیو استعمال کی گئی ہے ورنہ انہیں گلوکار کے خلاف قانونی کارروائی کرنا پڑے گی۔
مناہل نے گلوکار کیخلاف ایف آئی آر درج کروانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس گانے میں ان کی نجی زندگی سے جڑی چیزوں کو دکھایا گیا ہے، جو ان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
ٹک ٹاکر کے اس ویڈیو بیان کے جواب میں عمیر اعوان نے کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آ کر اپنا گانا ڈیلیٹ نہیں کریں گے مناہل جو چاہیں کر لیں۔
واضح رہے کہ یہ گانا تین روز قبل یوٹیوب پر جاری کیا گیا تھا اور اب تک اسے 99 ہزار سے زائد ویوز مل چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمیر اعوان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔