حج انتظامات، عازمین کو حاجی کیمپ سے ٹکٹ، ویزہ، شناختی لاکٹ، اسٹیکرز اور موبائل سم فراہم کی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر مذہبی امور کی زیرصدارت حج انتظامات کے حوالے سے اجلاس ہوا جہاں کیمپوں میں چاروں صوبوں میں عازمین کے لیے ویکسین کی فراہمی سمیت دیگر سہولیات کا جائزہ لیا گیا اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ عازمین حج کو پرواز سے دو دن قبل متعلقہ حاجی کیمپ سے ٹکٹ، ویزہ، شناختی لاکٹ، اسٹیکرز اور موبائل سم حاصل کرنا ہو گی۔
وفاقی وزیر مذہبی امور کی زیر صدارت حج انتظامات کا جائزہ اجلاس ہوا جہاں سیکریٹری مذہبی امور سید عطا الرحمان سمیت اعلی حکام نے بریفنگ دی اور حاجی کیمپوں میں ویکسن کی فراہمی کے انتظامات اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ ضیوف الرحمان کی خدمت کے لیے تمام حاجی کیمپ تیار ہیں، عازمین حج زحمت سے بچنے کے لیے پاک حج ایپ پر دیے گئے شیڈول کے مطابق حاجی کیمپ آئیں۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد، لاہور، پشاور اور ملتان میں ویکسین کی فراہمی 21 اپریل سے شروع ہو گی، کراچی، رحیم یار خان، سکھر، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں 22 اپریل سے ویکسین فراہمی کا آغاز ہو گا اور کوئٹہ کے عازمین حج کو لازمی ویکسین لگانے کا آغاز 23 اپریل سے ہو گا۔
بتایا گیا کہ رحیم یار خان کا عارضی حاجی کیمپ 22 تا 24 اپریل کام کرے گا۔
حکام نے بتایا کہ عازمین کرام متعلقہ حاجی کیمپوں میں لازمی ویکسین، ادویات کی پیکنگ اور حج تحائف وصول کریں گے اور پرواز سے دو دن قبل متعلقہ حاجی کیمپ سے ٹکٹ، ویزہ، شناختی لاکٹ، اسٹیکرز اور موبائل سم حاصل کرنا ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حاجی کیمپ
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ