جعفر آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ ہم اسمبلی کے اندر ہو یا باہر عوام کے حقوق کے تحفظ، لاپتہ افراد کی بازیابی، کاروبار روزگار، بارڈر کھولنے اور ترقی و خوشحالی کی جدوجہد کرتے رہینگے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں عوام کے ووٹوں اور عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے ڈنڈے کی حکمرانی ہے۔ بلوچستان کے عوام کو غیرت و ایمانداری اور اخلاص کیساتھ وسائل، چادر و چار دیواری کے تحفظ اور حقوق کے حصول، لاپتہ افراد کی بازیابی کی لڑائی لڑنی ہے۔ بلوچستان کو بند کرکے ریگستان بنانا دانشمندی نہیں، طاقت کے بل بوتے پرعوام کے دل نہیں جیتے جاسکتے اور نہ ہی حکمرانی ممکن ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی،بے گناہ قیدیوں کی رہائی، روزگار کاروبار کے تحفظ کیلئے ہم لڑیں گے۔ ہم اسمبلی کے اندر ہو یا باہر عوام کے حقوق کے تحفظ، لاپتہ افراد کی بازیابی، کاروبار روزگار، بارڈر کھولنے اور ترقی و خوشحالی کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔ کسی کا ڈکٹیشن دباؤ قبول کریں گے نہ ضمیر کا سودا کرکے بدعنوانی کر سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جعفرآباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان پروفیسر محمد  ایوب منصور، میر خرم فتح بھنگر و دیگر نے خطاب کیا۔ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ بلوچستان کے وسائل شیر مادرسمجھ کر لوٹے جارہے ہیں اورہمیں اپنے وسائل دینے کیلئے تیار نہیں۔ خیرات و بچت کے بجائے جائز حقوق دیئے جائیں۔ چادر و چار دیواری کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔ پی ایس ڈی پی کے فنڈز کیلئے کسی صورت خاموش نہیں رہیں گے۔ سخت بات کرنے پر فنڈز رکھوانے کی باتیں سن رہا ہوں۔ فنڈز بند ہوں گے یا کوئی اور دھمکی دیں گے، غیرت و ہمت اور تحفظ پر کوئی کمپرومائزن ہیں کرونگا۔ عوام اور سرزمین کیلئے جان دینے کیلئے تیار ہوں۔ جماعت اسلامی سرداروں ظالموں سرمایہ داروں اورخاندان کی موروثی پارٹی نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لاپتہ افراد کی بازیابی مولانا ہدایت الرحمان عوام کے کے تحفظ

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار