اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں ہونے والی سالانہ حج کانفرنس کا انعقاد گیا جس میں حج ضابطہ اخلاق کا بھی اعلان کیا گیا۔

کانفرنس میں پاکستان علما کونسل کے حافظ طاہر اشرفی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی نائب سفیر صالح المطہری نے شرکت کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہاں سے شاید حجاج سفر حج میں شریک نہ ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیے: ہزاروں پاکستانی عازمین حج کے لیے کیوں نہیں جا سکیں گے، وفاقی وزیر مذہبی امور نے وجہ بتا دی

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ ہوا کہ تمام انتظامات 14 فروری تک مکمل کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی سفیر نواف سعید المالکی داد کے مستحق ہیں جنہوں نے قواعد سے ہٹ کر پاکستانی حجاج کے لئے کوشش کی۔

طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ 67 ہزار حاجی حج سے باہر ہیں تو ذمے داروں کو قرار واقعی سزا دیں لیکن ہمارے لئے یہ قابل قبول نہیں کہ ہمارے اتنے حاجی حج سے باہر ہوں، میں نے حرمین پر قربان ہونے کے لیے شاہ سلمان بن عبد العزیز کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے  سالانہ حج کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے حج کا انتظام ہمیشہ عبادت سمجھ کر کیا ہے اوراس حوالے سے ہمیشہ علمائے کرام سے مشاورت لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایام حج میں تمام تر انتظامات کی نگرانی میں خود کروں گا، عازمین حج کو تمام سہولیات فراہم کریں گے، وزیراعظم کی ہدایت پر مکہ اور مدینہ حج انتظامات دیکھنے گیا تھا۔

وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ نجی آپریٹرز کی وجہ سے حج کوٹہ پورا نہ ہوسکا، نجی حج کوٹہ سے متعلق سعودی وزیر سے بھی ملا، میں نے سعودی وزیر حج سے درخواست کی کہ پاکستان کے لئے تاریخ میں توسیع کریں۔

یہ بھی پڑھیے: پرائیویٹ حج اسکیم: اس سال کتنے عازمین حج پر جائیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ سعودی وزیر حج نے کہا کہ ہم بھرپور کوشش کریں گے اور اگر کسی اور ملک کو اجازت ملی تو پاکستان کو بھی ملے گی، اس دوران ہمارا 10 ہزار حج کوٹہ بھی بڑھا دیا گیا، کوشش کر رہے ہیں کہ رہ جانے والے عازمین کے لئے سعودی حکومت سے رعایت حاصل کریں، کسی کے دیے گئے پیسے ضائع نہیں ہوں گے۔

سالانہ حج کانفرنس میں ایک قرارداد بھی پیش کی گئ جس میں سعودی عرب کی حجاج کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ 67 ہزار عازمین حج کے معاملے میں نئے نظام سے متعلق غلط فہمیاں ہیں، قرارداد میں 67 ہزار عازمین حج کے لئے خصوصی اجازت کی درخواست کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Sardar Muhammad Yousaf.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سردار محمد یوسف نے کہا کہ کے لئے ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم