تھیلیسیمیا مائنر والے والدین کی شادی پر پابندی نہیں لگوا رہے، ٹیسٹ کی بات کر رہے ہیں، شرمیلا فاروقی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں شادی سے قبل دلہا دلہن کے تھیلیسیمیا کے لازمی ٹیسٹ کے حوالے سے بحث ہوئی۔
کمیٹی کا اجلاس ڈاکٹر مہیش کمار کی سربراہی میں شروع ہوا جس میں رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے تھیلیسمیا بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تھیلیسیما مائنر والے والدین کی شادی پر ہم پابندی نہیں لگوا رہے، شادی سے قبل دلہا اور دلہن کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کی بات کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں تھیلیسیمیا ڈے منایا گیا، تقاریب میں بچوں کو عارضے سے بچانے کی آگاہی فراہم
انہوں نے کہا کہ 5 سے 8 فیصد آبادی تھیلیسیمیا مائنر ہیں۔ اسلام آباد میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ٹیسٹ کرنا چاہتے ہیں، شادی سے قبل ٹیسٹ کو لازمی قرار نہیں دیں گے، دلہا دلہن کی رضامندی سے ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔
دوران اجلاس اسپیشل سیکریٹری نے بتایا کہ لا ڈویژن سے ابھی بل پر جواب نہیں آیا، مزید بیماریوں کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔
شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ ممبر کو سپورٹ نہیں کیا جاتا، میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے بل لائی ہوں۔
اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ یہ اچھا بل ہے، اس میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمیں اس بل کو متفقہ طور پر پاس کرنا چاہیے، ووٹنگ نہیں کروائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: تھیلیسیمیا کیا ہے؟ چھوٹے بچے اس مرض سے کیسے متاثر ہوتے ہیں؟
بعد ازاں، جے یو آئی (ف) کی ممبر عالیہ کامران کے سوا تمام ممبران نے بل پاس کر دیا۔
علاوہ ازیں، اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نرسنگ کونسل کی جانب سے کمیٹی میں عدم شرکت پر انتظامیہ کو شوکاز نوٹس جاری کریں۔ اسپیشل سیکرٹری نے کہا کہ نرسنگ کونسل کے لوگ عدالتی حکم امتناع کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسپیکر کو لیٹر لکھیں، ان کے خلاف ایکشن لیں گے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سیکرٹری ہیلتھ بتائیں ایف آئی اے کو جو جواب جمع کروایا گیا کس کےکہنے پر جمع ہوئے۔ بیس میٹنگز میں آدھا وقت نرسنگ کونسل میں ضائع ہوا۔ وزارت صحت بھی عدالت کےفیصلوں کے پیچھے چھپی ہوئی ہے، ہیلتھ منسٹری صدر نرسنگ کونسل کے حوالے سے کیوں فیصلہ نہیں کر رہی؟ صدر کی اپوائنٹمنٹ پر وزارت صحت جواب دے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بچے میں تھیلیسیمیا کی تشخیص ہوئی تو سب نے حمل گرانے کا مشورہ دیا‘
اس موقع پر رکن اسمبلی نثار احمد کا کہنا تھا کہ ایک سال سے آپ لوگ جواب مانگ رہے ہیں ایک سال اور انتظار کریں ان کا وقت ختم ہو جائے گا۔ عالیہ کامران نے کہا کہ وزٹ ویزا پر جا کر ایک خاتون کیسے ڈگری حاصل کر سکتی ہے؟ وزارت صحت آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھیلیسیمیا تھیلیسیمیا مائنر شادی شرمیلا فاروقی صحت طبی معائنہ قائمہ کمیٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تھیلیسیمیا تھیلیسیمیا مائنر شرمیلا فاروقی قائمہ کمیٹی شرمیلا فاروقی نرسنگ کونسل نے کہا کہ رہے ہیں
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔