ٹیرف جنگ کے تناظر میں اتحادیوں کا امریکہ پر اعتماد انتہائی کم ہو چکا ہے، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
ٹیرف جنگ کے تناظر میں اتحادیوں کا امریکہ پر اعتماد انتہائی کم ہو چکا ہے، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 April, 2025 سب نیوز
واشنگٹن : حالیہ دنوں امریکہ نے نام نہاد ” مساوی محصولات” پر مذاکرات کا آغاز کیا ہے تاکہ تجارتی شراکت داروں کو سر جھکانے پر مجبور کیا جا سکے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکی حکومت ٹیرف مذاکرات میں دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیےبھی تیار ہے کہ وہ ٹیرف استثنیٰ کے بدلے چین کے ساتھ تجارت کو محدود کریں۔ منگل کے روز چینی میڈ یا نے ایک ر پورٹ میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے تجارتی غنڈہ گردی کا سامنا کرتے ہوئے اس کے روایتی اتحادیوں نے بھی پرعزم رویے کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین نے فوری طور پر جوابی اقدامات متعارف کرائے۔
کینیڈا کا کہنا ہے کہ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات کا دور ختم ہو چکا ہے۔ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، وغیرہ ۔ اتحادیوں کا واشنگٹن پر اعتماد انتہائی کم ہو چکا ہے۔ چین کے خلاف کسٹم یونین بنانے میں امریکہ کے لالچ کے سامنے، اب تک کسی بھی بڑی مغربی معیشت نے عوامی طور پر ردعمل ظاہر نہیں کیا.
برطانیہ کی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے حال ہی میں میڈیا کو بتایا کہ چین سے ڈی کپلنگ ایک “بہت احمقانہ” نقطہ نظر ہے، اور چین کے ساتھ تعاون کرنا برطانیہ کے قومی مفاد میں ہے.اس وقت چین 150 سے زائد ممالک اور خطوں کا اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں چین کی اشیاء کی درآمدات اور برآمدات 10.3 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں جو سال بہ سال 1.3 فیصد اضافہ ہے جس میں سے برآمدات میں 6.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کی جانب سے تجارتی غنڈہ گردی کا سامنا کرتے ہوئے چین نے نہ صرف اپنے مفادات اور قومی وقار کے تحفظ، بلکہ بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظام اور بین الاقوامی شفافیت اور انصاف کے تحفظ کے لیے بھی جوابی اقدامات اختیار کیے ہیں ۔ جیسا کہ چین کھلے پن کو وسعت دینے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے سازگار پالیسیاں متعارف کروا رہا ہے ، بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسے مرسیڈیز بینز ، بی ایم ڈبلیو اور ایپل نے چین کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا ہے۔
حال ہی میں این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے ایک بار پھر چین کا دورہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین ہمارے لئے ایک بہت اہم مارکیٹ ہے۔ہم غیر متزلزل طور پر چینی مارکیٹ کی خدمت کریں گے.یقیناً اگر کوئی چین کے مفادات کی قیمت پر امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے تو چین بھی جوابی اقدامات اختیار کرے گا ۔ چین اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا عزم اور صلاحیت رکھتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم شہباز شریف کا دو روزہ دورہ ترکیہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا خسارہ 7222ہزار ارب روپے رہنے کا امکان چائنا میڈیا گروپ کے ایونٹ “گلیمرس چائینیز 2025 ” کا کامیاب انعقاد چین، دنیا کی پہلی ہیومنائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن کا انعقاد چین اور گبون نے سیاسی باہمی اعتماد کو گہرا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، چینی صدر چین اور ایکواڈور جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، چینی صدر سونے کی قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ، نرخ نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہو چکا ہے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک