یہ سونا بیچنے کا نہیں بلکہ خریدنے کا وقت ہے، مگر کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس کی وجہ امریکی پالیسی ہو یا پھر فلسطین اسرائیل جنگ ہو لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ سونا بیچنے نہیں بلکہ خریدنے کا وقت ہے۔
چیئرمین آل پاکستان جیولرز مینوفیکچرر ایسوسی ایشن محمد ارشد کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سونے کی قیمت امریکی پالیسیوں کی وجہ سے تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اس کا تعلق پاکستانی معیشت سے نہیں ہے کیوں کہ ہماری کرنسی اس وقت مستحکم ہے۔
محمد ارشد کا کہنا ہے کہ اس وقت دو عالمی طاقتوں چین اور امریکا کی تجارتی جنگ جاری ہے، چین معاشی جبکہ امریکا جنگی طاقت رکھنے والا ملک ہے، اور دنیا بھی ان دونوں ممالک کی طاقت کو تسلیم کرتی ہے ان کی رسہ کشی میں تیل نیچے اور سونے کی قیمت میں نہ رکنے والا اضافہ ہونے لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین شرح پر پہنچ گئی
’دوسری جانب اسرائیل اور فلسطین کی صورت حال ہے اس معاملے کو اگر قابو میں نہ کیا گیا تو پاکستان میں سونے کی قیمت 4 لاکھ روپے فی تولہ سے تجاوز کر جائے گی۔‘
آل پاکستان گولڈ مینوفیکچرر ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین حمزہ شکار پوری کا کہنا ہے کہ یہ سونا بیچنے کا نہیں بلکہ خریدنے کا وقت ہے، اس وقت سرمایہ کار سونے میں سرمایہ لگا رہے ہیں اور سونے کی خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
حمزہ شکار پوری کے مطابق عام تاثر یہ ہے کہ سونا کوئی نہیں خرید رہا جو کہ غلط ہے، جہاں تک عام شہریوں کا تعلق ہے تو انہیں بھی چاہیے کہ ان کے پاس جتنا سونا ہے وہ محفوظ رکھیں۔
مزید پڑھیں: اٹک سونے سے اور چنیوٹ تانبے سے مالامال مگر سرمایہ کاری کیوں نہیں؟
’سب سے اچھا سرمایہ اس وقت سونا ہے اور ایک یا ڈیڑھ سال میں اس کی قیمت 5 لاکھ روپے فی تولہ تک پہنچ سکتی ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل پاکستان گولڈ مینوفیکچرر ایسوسی ایشن تولہ تیل حمزہ شکار پوری سونا سونے کی قیمت فلسطین اسرائیل جنگ محمد ارشد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تولہ تیل حمزہ شکار پوری سونے کی قیمت فلسطین اسرائیل جنگ سونے کی قیمت
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔