محکمہ موسمیات کی ہیٹ ویو ختم ہونےکے بعد گرمی کی شدت میں مزید اضافے کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
کراچی:
شہر میں جاری ہیٹ ویوکے دوران موسم شدید گرم اور خشک رہا اور محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ گرمی کی شدید لہر مزید ایک روز جاری رہے گی اور اس کے بعد سمندری ہوائیں بحال ہوں گی تاہم موسم گرم ومرطوب رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ شہر میں جاری ہیٹ ویوکے سبب گرم وخشک دن ریکارڈ ہوا، اس دوران سمندری ہوائیں غیرفعال رہیں اور ساتھ ہی بلوچستان کی جانب سے گرم اور ریگستانی شمال مغربی ہوائیں چلیں۔
بیان میں کہا کہ شہر کا کم سے کم پارہ گزشتہ روزکے مقابلے میں ایک ڈگری کمی سے24 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت گزشتہ کے مقابلے میں 1.
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق ہیٹ ویو کی صورت حال مزید ایک روز برقراررہ سکتی ہے تاہم زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں معمول سے 4تا 6ڈگری اضافے کا امکان ہے۔
مزید بتایا گیا کہ جمعرات کو سمندری ہوائیں بحال ہونےکا امکان ہے، تاہم ہیٹ ویوکے خاتمے کے بعد شہر میں موسم گرم ومرطوب ریکارڈ ہوسکتا ہے، صوبے کے بیشتراضلاع میں موسم گرم، شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ منگل کو دیہی سندھ کے جیکب آباد کا پارہ 43.5 ڈگری، چھور، مٹھی اور لاڑکانہ کا درجہ حرارت 43ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات کا امکان ہے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔