شدید گرمی جاری؛ گرج چمک کیساتھ بارش کہاں ہو سکتی ہے؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
پشاور:
ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک ہے جب کہ کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے اور ساتھ ہی درجہ حرارت میں بھی آہستہ آہستہ اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختون خو اکے جنوبی اضلاع میں دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ گرمی ہو گی۔
ماہرین نے موسم کے حوالے سے پیش گوئی میں کہا ہے کہ چترال، دیر ،کوہستان ، مانسہرہ، اور سوات کے اضلاع میں بعض مقامات پر تیز ہواؤں وگرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جب کہ گزشتہ روز صوبے کے بیشتر اضلاع دیر، سوات ، کوہستان ،چترال اور مانسہرہ میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی تھی۔
گزشتہ روز دیر میں 14 ،کالام 9، دروش، 4 پٹن اور بالاکوٹ میں 3 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی اور پشاور کا درجہ حرارت 35 ،ڈیرہ اسماعیل خان 39، بنوں 35، کالام 16، مالم جبہ 18، چترال 22، دیر 26 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ساتھ بارش
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔