Express News:
2026-07-24@08:21:22 GMT

تین سنہرے اصول

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ دنیا میں، اس ہمارے ملک میں اور ہمارے اردگرد بہت کچھ اُلٹ پلٹ ہوچکا ہے، ہورہا ہے اور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ صرف سورج ابھی مغرب کی طرف تو نہیں نکل رہا ہے۔لیکن باقی سب کچھ بدل چکا ہے، الٹ ہوچکا ہے۔ایک مستند دانا دانشور نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کبھی بچے اپنے والدین سے بات کرتے تھے تو بہت جھجھکتے تھے، سوچتے تھے اور ڈرتے تھے کہ بات کی تو کیا نتیجہ نکلے گا لیکن زمانہ بدل گیا ہے، اب والدین اپنے بچوں سے بات کرتے ہوئے یہی کچھ کرتے ہیں۔

بیویاں اپنے شوہروں سے بات کرتے ہوئے ڈرا کرتی تھیں لیکن اب شوہر اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے بہت سوچتے، سمجھتے اور بہت تول تول کر منہ سے ’’بول‘‘ نکالتے ہیں کہ کہیں پارہ نہ چڑھ جائے، ماضی میں شوہر بیویوں سے حساب مانگتے تھے اور اب بیویاں شوہروں کا آڈٹ کرتی ہیں۔تنخواہ کا بھی اور وقت کا بھی؟ چھٹی تو دو بجے ہوتی ہے اور تم اب چار بجے گھر پہنچے ہو۔یہ دو گھنٹے کہاں تھے، کیا کرتے تھے اور کیوں کرتے تھے؟ پرانے زمانے میں ’’مجرم‘‘ پولیس سے ڈرتے تھے اور اب پولیس مجرموں سے ڈرتی ہے کہ کہیں’’کام چھوڑ‘‘ ہڑتال کرکے ہمیں اپنی تنخواہ کے ساتھ تنہا نہ چھوڑ دیں۔

پہلے انسان درندوں سے ڈرا کرتے تھے، اب درندے انسانوں سے ڈرکر نہ جانے کہاں غائب ہورہے ہیں؟ اس خیال سے کہ ہمارا سارا کام تو انسانوں نے سنبھال لیا ہے اور درندگی کا وہ کام شہروں میں کھلے عام کررہا ہے تو ہم کیا کریں گے اور کہاں رہیں گے کہ جنگل میں بھی انسانوں نے شہر اگا لیے ہیں۔

مسجد میں ہم نے ایک بزرگ کو دیکھا کہ ہر وقت مسجد میں بیٹھے یا لیٹے یا اونگتے رہتے تھے اور گھر بہت کم کم جاتے تھے۔پوچھا حضور کیا بات ہے گھر میں کوئی ناچاقی ہے، ناہمواری ہے اور پریشانی ہے کیا؟ بولے نہ ناچاقی ہے نہ پریشانی ہے نہ ناہمواری ہے ’’شرمندگی ہے‘‘۔کیسی شرمندگی؟ ہم نے پوچھا تو بولے بلکہ تقریباً روئے اور کہا، سارے گھر والے مجھ سے ناراض ہیں، شاکی ہیں، روٹھے ہوئے ہیں، احترام و عزت تو دور کی بات ہے سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتے، گھر میں کہیں بیٹھا یا لیٹا ہوتا ہوں تو یوں دور دور رہتے ہیں جیسے مجھے چھوت کی کوئی خطرناک بیماری لاحق ہو۔

پوچھا کیوں ؟ آپ نے ایسا کیا کیا ہے ؟

 بولے، اس لیے کہ میں نے کچھ’’کیا‘‘ کیوں نہیں ہے۔

ساری زندگی جوتے اور انگلیاں گھسا گھسا کر انھیں دیا نہ دے پایا، وہ میرے بیٹوں نے چار پانچ سال میں دے دیا ہے،میں نے ان کو دس مرلے کے ٹوٹے پھوٹے اور کھنڈر نما گھر میں جس ہر ہر سہولت سے ترسایا تھا، بیٹوں نے آٹھ کنال کے لگژری بنگلے میں وہ سب کچھ مہیا کردیا ہے۔ میں نے عمر بھر انھیں مچھروں سے کٹوایا اور کھڑکھڑاتے ہوئے ایک پنکھے کے نیچے سلایا بلکہ جگائے رکھا تھا اور اب بیٹوں نے اے سی کمروں میں پہنچا دیا ہے۔

میں نے مانگے تانگے کا برف ڈال کر کولر کا پانی پلایا تھا اور اب ان کے پاس ہر کمرے میں ایک فریج ہے اور کچن میں دو بڑے ڈیپ فریزرز۔ میں نے ان کو ایک وقت کا پکا ہوا کھانا دو وقت کھلایا تھا۔اور اب ان کے کچن سے ہر وقت خوشبو دار کھانے نکلتے ہیں۔اب تم بتاؤ کہ ایک ناکام و نامراد انسان ان کامیاب اور بامراد انسانوں کے بیچ کیسے رہے؟ یہ تو ایک عام انسان ریٹائرڈ سرکاری ملازم کا المیہ تھا۔لیکن ہم ایک ایسے خاص انسان سے بھی واقف ہیں جس نے اپنی ساری زندگی ایک نظریاتی سیاسی پارٹی میں ’’ضایع‘‘ کی ہے اور اس کا کل اثاثہ جسم پر پرانے زخموں کے نشان، قیدوبند کی یادوں اور قربانیوں کی صورت میں اس کے پاس ہے باقی کچھ نہیں۔جس کی ساری عمر،پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ،میں گزری ہے اور آخر تھک ہار کر یہ کہتے گھر پہنچا کہ

ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے

لیکن نہ بہار آئی شاید نہ بہار آئے

لیکن بہار ایک اور طرف سے ایک اور راستے سے آئی بلکہ اس کا ایک بیٹا اس’’بہار‘‘ کو کان سے پکڑ کر سیدھا اپنے گھر لے آٰیا۔’’باغ تمنا‘‘ میں ایک لمحہ گزارے بغیر وہ آج کل اپنے بلکہ بیٹے کی عظیم الشان حویلی کے مردانہ حصے کی ایک بیٹھک میں مقیم ہے، بیٹے اور گھروالوں نے اسے ہر طرح سے جتن کرکے گھر کے اندر لانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانا۔اور خود اپنے اوپر نافذ کی ہوئی سزائے قید میں پڑا ہوا ہے۔بیٹے نے ایک خدمت گار تعینات کردیا۔ تو اس نے اسے بھی یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ایک خدمت گار کسی اور سے خدمت کیسے لے سکتا ہے۔

وہ اپنی ناکامی کے احساس سے شرمندہ ہے کہ جو کچھ اس نے پچاس سال ایک پارٹی سے وابستہ رہ کر حاصل نہیں کیا تھا، وہ اس کے بیٹے نے ایک پارٹی میں چند ہی سال میں حاصل کرلیا۔کیونکہ وہ باپ کی فرسودہ پارٹی کو چھوڑ کر نئے دور کی ایک ’’بیسٹ سیلر‘‘ پارٹی میں شامل ہوگیا۔ جو ’’شارٹ کٹوں‘‘ سے بھرپور بھی ہے اور پورے گھر کو ہر چیز سے بھردیا ہے، ہم کبھی کبھی اس ناکام نامراد اور نکمے سے جاکر حال چال پوچھتے ہیں اور اگلے زمانے کے بیوقوف لوگوں کی کہانیاں سنتے ہیں۔

 ایک دن اس کے بیٹے سے ملاقات ہوئی تو اس نے شکایت کی کہ میں تو ہر طرح سے ان کا خیال رکھنا چاہتا ہوں لیکن وہ میرا کچھ بھی قبول نہیں کرتے حالانکہ میں نے یہ سب کچھ انھی کی برکت سے پایا ہے۔

ہم نے کہا ہاں ان کا ایک ’’نام‘‘ تو تھا۔بولا میں نام کی بات نہیں کر رہاہوں، نام تو آج کل ایک کھوٹا سکہ ہے۔میں ان کے اصولوں کی بات کررہا ہوں۔ان کے تین اصول تھے ایمانداری، خودداری اور وفاداری۔ میں نے ان کے ان تین اصولوں کو ہمیشہ یاد رکھا، اپنے سامنے رکھا۔اور ہمیشہ ان سے’’بچنے‘‘ کی کوشش کی، ان کو کبھی اپنے قریب آنے نہیں دیا۔ اور یہ سب کچھ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ میں نے ہمیشہ ان اصولوں کو راستے کا روڑا سمجھ کر یا تو لات مارکر راستے سے ہٹا دیا ہے۔یا پیر اٹھا کر اور انھیں پھلانگ کر آگے بڑھا ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سے بات کرتے کرتے ہوئے کرتے تھے تھے اور سب کچھ کہ میں ہے اور دیا ہے اور اب

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی