معدنیات کے خزانے کی مؤثر سرویلنس، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار کیلئے آسان منصوبہ بنایا جائے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر +نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز نے لوکل اور فارن انویسٹر کے لئے آسان اور قابل عمل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی اور معدنیات کے خزانے کی سرویلنس موثر بنانے کا حکم دیا۔ مریم نواز کی زیرصدارت مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ کے جا ئزہ اجلاس میں راک سالٹ سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کیلئے سپیشل اکنامک زون کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے پلسر گولڈ اور آئرن سے متعلق جامع بزنس پلان طلب کر لیا ہے۔ قائد آباد میں سپیشل اکنامک زون کو 10 سال کے لئے ٹیکس فری قرار دینے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ قائد آباد سپیشل اکنامک زون میں بنیادی انفراسٹرکچر بھی فراہم کیا جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنک سالٹ کو خام کی بجائے ویلیو ایڈڈ پراڈ کٹس کی شکل میں ایکسپورٹ کو ترجیح دی جائے گی۔ چنیوٹ میں 261ملین ٹن آئرن کے معدنی ذخائر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پلسر گولڈ پراجیکٹ سے 33ہزار کلو گرام سونا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پلسر گولڈ پراجیکٹ کیلئے انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے منطوری دے دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ زمین کو محفوظ بنانے کے لئے آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ پنجاب حکومت قدرتی مسکن کی حفاظت کے مشن میں سب سے آگے ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ارتھ ڈے پر پیغام میں کہا کہ زمین صرف ہماری نہیں، آنے والی نسلوں کی بھی امانت ہے۔ زمین کے تحفظ کے لئے ہمیں قدرتی وسائل اور درختوں کو بچانا ہے۔ دوسری جانب مریم نواز سے سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا خیر مقدم کیا۔ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال، ملکی صورتحال، قیام امن اور صوبائی ترقیاتی پراجیکٹس پر بات چیت کی گئی۔ انوارالحق کاکڑ نے وزیر اعلیٰ کے ویژن کو سراہا۔ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں نوجوانوں کو تعلیم، آئی ٹی ٹریننگ، انٹرنشپس اور روزگار کی سہولتوں سے ایمپاور کیا جا رہا ہے۔ صحت کا شعبہ اور قیام امن پہلی ترجیحات میں شامل ہے۔ انوارالحق کاکڑ نے پنجاب میں شعبہ صحت میں جاری اصلاحات کو بھی سراہا اور کہا کہ مریم نواز نے صحت اور تعلیم کے شعبہ میں انقلابی پراجیکٹس متعارف کرائے ہیں۔ وہ پاکستان میں ویمن ایمپاورمنٹ کی زندہ مثال ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے زیر صدارت خصوصی اجلاس میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے زیر اہتمام ٹریننگ ونگ قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو 30ستمبر تک صوبہ بھر میں فنکشنل کرنے کا ہدف مقرر کر دیا۔ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت صوبہ بھر میں انفورسمنٹ سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔ اتھارٹی مئی میں لاہورڈویژن میں فنکشنل ہوگی۔ ’’پیرا‘‘تجاوزات کے خاتمے، پرائس کنٹرول اور دیگر امور سرانجام دے گی۔ 14اگست تک ’’پیرا‘‘کو تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں فنکشنل کر دیا جائے گا۔ ’’پیرا‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل نے سٹاف ورکنگ اور دفاتر کے قیام سے متعلق آگاہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انوارالحق کاکڑ مریم نواز نے کے لئے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں