Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:38:13 GMT

سلمان خان کی فلم سکندر باکس آفس پر سست روی کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT

سلمان خان کی فلم سکندر باکس آفس پر سست روی کا شکار

سلمان خان کی فلم سکندر باکس آفس پر سست روی کا شکار ہے، جس کی کمائی میں مسلسل کمی ہونے لگی۔

بالی ووڈ کے دبنگ اسٹار سلمان خان اور رشمیکا مندانا کی فلم سکندر 30 مارچ کو سنیما گھروں کی زینت بنی تھی، فلم نے ریلیز کے پہلے دن 26 کروڑ روپے کی زبردست کمائی کر کے ایک اچھا آغاز کیا، تاہم ابتدائی جوش و خروش کے باوجود فلم باکس آفس پر اپنی رفتار برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔

فلم کی ریلیز کے 24 ویں دن یعنی 22 اپریل کو صرف 4 لاکھ روپے کی کمائی ہوئی، جس کے بعد سکندر کی بھارت میں مجموعی کمائی 110.

2 کروڑ روپے پر پہنچ گئی ہے، عالمی سطح پر فلم نے 184.71 کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے، یہ اعداد و شمار انڈسٹری ٹریکر ساکنِلک کی رپورٹ کے مطابق جاری کیے گئے ہیں۔

سکندر سلمان خان اور رشمیکا مندانا کی پہلی آن اسکرین جوڑی ہے، جسے شائقین نے ابتدائی دنوں میں کافی پسند کیا تھا، فلم کو معروف ہدایت کار اے آر مروگاداس نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ اس کی پروڈکشن نڈیاڈوالا گرینڈسن انٹرٹینمنٹ نے کی ہے، فلم میں پرتیک ببر، کاجل اگروال اور شرمن جوشی نے بھی اہم کردار ادا کیے ہیں۔

فلم کی کمزور کارکردگی کے بعد اداکار عمران ہاشمی نے سلمان خان کی حمایت میں بیان دیا ہے، ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے سلمان خان پر پورا یقین ہے، وہ بہت سمجھدار ہیں، وہ کئی دہائیوں سے انڈسٹری میں ہیں، اُتار چڑھاؤ ہر کسی کے کیریئر کا حصہ ہوتا ہے، 10سال پہلے لوگ یہی بات شاہ رخ خان کے بارے میں کہہ رہے تھے، لیکن وہ واپس آئے اور چھا گئے، سلمان خان کے پاس تجربہ ہے، کرزمہ ہے اور وہ ضرور واپس آئیں گے۔

عمران ہاشمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کبھی کبھی فلم ویسی نہیں بنتی جیسی آپ نے سوچی ہوتی ہے، یہ چیزیں ہمیشہ آپ کے قابو میں نہیں ہوتیں، سلمان خان ایک محنتی اداکار ہیں اور اپنے کرداروں سے پورا انصاف کرتے ہیں۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟