قومی ایئر لائن کا 100فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
—فائل فوٹو
قومی ایئر لائن کا51 سے 100فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کر لی گئیں۔
نجکاری کے ذریعے قومی ایئر لائن کا مینجمنٹ کنٹرول بھی متوقع سرمایہ کار کو دیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرک میئر کی قیادت میں امریکی وفد نے ملاقات کی ہے۔
قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کی درخواستوں کی ڈیڈ لائن 3 جون 2025ء مقرر کی گئی ہے۔
اس حوالے سے نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے سرمایہ کاروں کو مراعات دی جائیں گی، نئے جہاز خریدنے یا لیز پر لینے پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی چھوٹ دی جائے گی۔
نجکاری کمیشن نے کہا کہ قومی ایئر لائن کی بیلنس شیٹ میں شامل کچھ واجبات کی منتقلی بھی شامل ہے جبکہ بعض ٹیکسوں اور قانونی مقدمات پر تحفظ یا کوریج دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی ایئر لائن کی نجکاری کے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔