نہروں کا ایشو مشترکہ مفادات کونسل طے کرے گی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
سٹی42: پاکستان کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں بلاول بھٹو اور وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سٹیٹسمین شپ صلاحیتوں کا عملی اظہار کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کے باہمی اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا اور بھارت کی ہندوتوا کی عامل متعصب حکومت کے پاکستان کو دیئے ہوئے چیلنج کا جواب دینے کے لئے کندھے سے کندھا جوڑ کر کھڑے ہو گئے۔
بلاول بھٹو اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں دونوں جماعتوں میں اختلاف کا سبب بننے والے ایشوز پر افہام و تفہیم سے فیصلہ کر لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں اس امر کا اعلان کیا کہ نئی نہریں مشترکہ مفادات کونسل میں اتفاق رائے کے بعد بنیں گی۔
پی ایس ایل10؛ ملتان سلطانز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
میڈا کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں اتفاق رائے ہونے تک نئی نہریں نہیں بنیں گی۔ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 2 مئی کو ہو گا۔
بلاول بھتو نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ آج ملاقات میں صرف یہ طے کیا کہ نئی نہریں نہیں بنیں گی جب تک کہ مشترکہ مفادات کونسل مین اس موضوع پر اتفاق رائے نہ ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مشترکہ مفادات کونسل
پڑھیں:
اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
اسلام آباد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی روابط ہی مسائل کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعاون کے فروغ، باہمی اعتماد میں اضافے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں روابط کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کے تحت طے پانے والے نکات پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کی قیادت خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر متفق ہے، جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔