گیس سے بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں سے کیپٹو پاور لیوی کی وصولی روکنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پشاور ہائی کورٹ میں کیپٹو پاور لیوی کی وصولی کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس قاضی جواد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائیکورٹ نے گیس سے بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں سے کیپٹو پاور لیوی کی وصولی معطل کردی۔ ہائی کورٹ میں کیپٹو پاور لیوی کی وصولی کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس قاضی جواد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت نے گیس سے بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں پر سے کیپٹو پاور لیوی کی وصولی معطل کردی۔ عدالت نے کیپٹو پاور لیوی کی وصولی معطل کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب بھی طلب کرلیا۔
قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے لیوی مقرر کرتے وقت متعلقہ صنعتوں سے مشاورت نہیں کی۔ پیداواری صلاحیت اور دیگر عوامل کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ بغیر قواعد و ضوابط کے جلد بازی میں لیوی نافذ کی گئی۔ عدالت نے مؤقف سننے کے بعد حکومت کو آئندہ احکامات تک لیوی وصولی سے روک دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔