اے ٹی سی عدالت نے 9 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماﺅں سمیت 17 افراد پر فرد جرم عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24اپریل 2025)انسداد دہشتگردی عدالت نے 9مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماﺅں سمیت 17افراد پر فرد جرم عائد کر دی، کمرہ عدالت میں موجود ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر اور استغاثہ کے گواہوں کو طلب کر لیا،کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) میں 9 مئی کو شاہ فیصل تھانے میں ہنگامہ آرائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
پی ٹی آئی رہنما راجہ اظہر، فہیم خان اور شاہنواز جدون سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے۔اے ٹی سی عدالت نے 17 ملزمان پر مقدمے میں فرد جرم عائد کی۔بعدازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر اور استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی۔(جاری ہے)
دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءاسد قیصر کی سنگجانی جلسے کے مقدمے میں عبوری ضمانت میں 21 مئی تک توسیع کر دی ۔
انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسد قیصر کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءاسد قصر اپنی وکیل عائشہ خالد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔تفتیشی افسر کی استدعا پر درخواست ضمانت پر آج دلائل نہیں ہو سکے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ کیس کی اگلی سماعت پر ریکارڈ پیش کیا جائے اور دلائل دیئے جائیں۔ بعدازاں عدالت نے اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔گزشتہ سماعت پر بھی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سنگجانی جلسہ توڑ پھوڑ کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں 24 اپریل تک توسیع کر دی تھی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سِپرا نے اسد قیصر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی تھی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسد قیصر کی پی ٹی آئی عدالت نے اے ٹی سی میں پی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔