میہڑ: کینال منصوبے کے خلاف قوم پرست تنظیموں کا دھرنا ختم، سندھ بھر کا زمینی رابطہ بحال
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
کینال منصوبے کے خلاف قوم پرست تنظیموں کی جانب سے گاہی مہیڑ چوک انڈس ہائی وے پر دیا گیا دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔ دھرنے کے خاتمے کے بعد سندھ بھر میں زمینی رابطہ بحال ہو گیا ہے، جبکہ کراچی اور لاڑکانہ کے درمیان آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ رکے ہوئے سینکڑوں مال بردار ٹرک روانہ ہو گئے ہیں۔
دھرنے کے دوران قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل رہی، اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے کینال منصوبے کو مقامی آبادی کے مفادات کے خلاف قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں: کینالز کے معاملے پر سندھ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، رانا ثنا اللہ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے تحفظات تسلیم کرتے ہوئے متنازع کینالز کا منصوبہ ختم کردیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے مؤقف کو اصولی طور پر تسلیم کرلیا ہے، اور مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں 2 مئی کو یہ معاملہ واپس لیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ کے مؤقف کو فتح حاصل ہوئی ہے، اور پیپلزپارٹی نے ہمیشہ جمہوری راستہ اپنایا ہے، جبکہ انتشار کی سیاست کرنے والے ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک پیپلزپارٹی موجود ہے، سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی کسی اور کو نہیں دیا جائے گا۔
قوم پرست تنظیموں کے رہنماؤں نے حکومتی یقین دہانیوں کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر وعدوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ دوبارہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ قوم پرست تنظیموں کینال منصوبے میہڑ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کینال منصوبے میہڑ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کینال منصوبے سندھ کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔