پہلگام واقعہ؛ اقوام متحدہ کی پاکستان اور بھارت کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
نیو یارک:
مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے پہلگام واقعے کے بعد پاک بھارت کشیدگی بڑھ گئی، جس پر اقوام متحدہ نے فریقین کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔
نیویارک میں ایک بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا کہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم تاحال ان کا اسلام آباد یا نئی دہلی سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
انہوں نے دونوں ملکوں کو متنبہ کیا کہ موجودہ کشیدہ فضا میں کسی بھی قسم کی غیر ذمے دارانہ کارروائی خطے کے امن کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا مؤقف واضح ہے کہ پاکستان اور بھارت کو تمام مسائل پرامن بات چیت سے حل کرنے چاہییں اور کسی بھی یکطرفہ قدم سے گریز کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی اپیل ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب بھارت نے پہلگام فالس فلیگ کے بعد سخت اور یکطرفہ اقدامات اٹھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت دیگر اقدامات کا اعلان کیا۔
بھارت نے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ واہگہ بارڈر کی عارضی بندش، اسلام آباد میں موجود سفارتی عملے میں کمی سمیت دیگر اقدامات کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔