محمد عامر کا پی ایس ایل اور آئی پی ایل میں شرکت پر فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی اور بھارتی کرکٹ لیگز میں شرکت کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے والے محمد عامر نے ایک ٹی وی پروگرام میں سوال کیا گیا کہ اگر پی ایس ایل اور آئی پی ایل کے شیڈول میں ٹکراؤ ہو تو وہ کس لیگ کا انتخاب کریں گے۔ اس پر انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا کہ اگر مجھے دونوں میں سے کسی ایک میں شرکت کا موقع ملا تو میں آئی پی ایل کو ترجیح دوں گا اور اس بات کا کھلے عام اظہار کرتا ہوں محمد عامر نے مزید کہا کہ اگر انہیں ایسا موقع نہیں ملتا تو پھر وہ پی ایس ایل میں حصہ لیں گے۔ ان کے مطابق آئندہ برس بھارتی کرکٹ لیگ میں حصہ لینے کا موقع مل سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ آئندہ برس دونوں لیگز ایک ہی وقت پر ہوں گی، اس مرتبہ چیمپیئنز ٹرافی کے باعث شیڈول میں ٹکراؤ آیا محمد عامر نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر انہیں پہلے پی ایس ایل میں منتخب کر لیا گیا تو وہ دستبردار نہیں ہو سکیں گے اس صورت میں انہیں ٹورنامنٹ میں شرکت پر پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے محمد عامر نے یہ بھی یاد دلایا کہ وہ اس وقت برطانوی شہریت کے حامل ہیں اور اس کے باوجود ان کا کرکٹ کی دنیا میں بڑا مقام ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ایس ایل میں شرکت کہ اگر
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔