بھارت کیخلاف پاکستان کی سیاسی جماعتیں متحد، جارحیت کا بھرپور جواب دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت دیگر اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اقدامات نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ انسانیت اور انسانی اقدار کے خلاف بھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اس پر ہم نہ صرف حکومت کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں گے اور سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان اور انڈس کا مقدمہ اٹھائیں گے اور بھارت کے اس اقدام کا منہ توڑ جواب دیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی آج صبح سماء ٹی وی پر گفتگو۔
بھارت پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ پاکستان اپنے دفاع کا پورا حق اور صلاحیت رکھتا ہے۔ پی ٹی آئی اپنی قوم اور پاک افواج کے ساتھ متحد اور یک زبان ہو کے کھڑی ہے۔ پاکستان بھارتی… pic.
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) April 24, 2025
’پی ٹی آئی اپنی قوم اور پاک افواج کے ساتھ متحد اور یک زبان ہو کے کھڑی ہے، مجھے امید ہے کہ حکومت پاکستان کے دفاع کے لیے بھارتی اقدامات کا ہر فورم پہ بھرپور جواب دے گی۔‘
https://Twitter.com/AmeerHamzaVoice/status/1915315379091513836
سربراہ جمعیت علمااسلام مولانا فضل الرحمان نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو ہم اپنے وطن عزیز کا دفاع اپنی قربانیوں سے کرسکتے ہیں، بھارت کی جانب سے سیالکوٹ میں ناشتہ کرنے کے بیان پر انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھیوں کو بھی دیوبند میں چائے پینے کا شوق ہے۔
’اپنی غلطیوں کو چھپانے اور اپنے گناہوں سے لوگوں کی نظر ہٹانے کے لئے پاکستان پر الزام لگانا بڑا آسان ہے، بھارت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔‘
کوئی شک نہیں یہ #FalseFlagOperation ہے۔ بھارت اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ ان شاءاللہ
بھارتی جارحیت کے خلاف پوری قوم ایک ہوجائے۔ pic.twitter.com/L681qRDVR8
— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) April 23, 2025
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلگام میں سیاحوں پر حملہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا، بھارت اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا، انہوں نے بھارتی جارحیت کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونے کا مشورہ بھی دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانی اقدار بلاول بھٹو زرداری بھارتی جارحیت چیئرمین پیپلز پارٹی دیو بند سندھ طاس معاہدے سیالکوٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری بھارتی جارحیت چیئرمین پیپلز پارٹی دیو بند سندھ طاس معاہدے سیالکوٹ کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔