تورغر: چیئر لفٹ پھنس گئی، ریسکیو عملے نے تمام افراد کو بچالیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
کوٹلی نصرت خیل تورغر میں دریائے سندھ کے اوپر چیئر لفٹ پھنس گئی تاہم ریسکیو عملے نے کامیابی کے ساتھ پھنسے ہوئے افراد کو نیچے اتار لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بٹگرام چیئرلفٹ حادثے کو 10 ماہ گزرنے کے بعد بھی کچھ نہ بدلا، تازہ صورتحال کیا ہے؟
ریسکیو 1122 کے مطابق چئیر لفٹ نے فنی خرابی کیوجہ سے کام چھوڑ دیا تھا اور اس میں 7 افراد پھنس گئے تھے۔
ریسکیو 1122 تورغر کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائیاں شروع کیں اور چیئرلفٹ آپریشن کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلیا۔
مزید پڑھیے: دوبارہ لفٹ پر کبھی نہیں بیٹھوں گا، لفٹ حادثے میں بچ جانے والا گلفراز
ریسکیو1122 ڈیزاسٹر اور میڈیکل ٹیموں سمیت 25 اہلکاروں نے آپریشن میں حصہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر تور غر صفدر اعظم قریشی نے موقعے پر تمام آپریشن کی نگرانی کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تورغر تورغر چیئر لفٹ ریسکیو 1122.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تورغر ریسکیو 1122
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔