پوری قوم سلامتی کمیٹی کے فیصلوں اور اقدامات کیساتھ کھڑی ہے: صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد(این این آئی)صدر مملکت آصف علی زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم ملاقات کی جس میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے غیر ذمے دارانہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت کو قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا جسے صدر آصف زرداری نے بروقت، فوری اور دور اندیش قومی اقدامات قرار دیتے ہوئے سراہا۔صدر زرداری نے کہاکہ قومی سلامتی کمیٹی کے تمام فیصلے قوم کے دل کی آواز ہیں، کمیٹی نے پاکستانی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے، پوری قوم فیصلوں اور اقدامات کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے بے بنیاد الزامات اور غیر منطقی اقدامات کا کوئی جواز نہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ دشمن کسی غلط فہمی میں نہ رہے، پاکستان کا دفاع الحمد للہ ناقابل تسخیر ہے۔نمائندہ خصوصی کے مطابق صدر زرداری نے کوئٹہ میں دھماکے کی مذمت، جانی نقصان پر اظہار ِ تعزیت کیا ہے ،صدر نے بنوں میں آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے 6 خوارج جہنم واصل کرنے پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے ، صدر مملکت نے کوئٹہ میں دھماکے میں 4 ایف سی جوانوں کی شہادت پر اظہارِ افسوس کیا ،صدر مملکت نے شہید ہونے والے ایف سی جوانوں کی دفاعِ وطن کیلئے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ،صدر مملکت نے وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر ایف سی جوانوں کو خراجِ عقید ت پیش کیا،صدر مملکت نے دہشتگردی کے خاتمے کے قومی عزم کا اظہار کیا ،صدر مملکت نے کہا کہ پوری قوم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے ، قربانیوں کی معترف ہے ، دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھیں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: صدر مملکت نے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔