سٹی 42 : جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ بھارت نے عملا جنگ کا اعلان کیا ہے مختلف اقدامات کرکے، ایسی صورتحال میں قوم متحد ہوکر ایسی جارحیت کا مقابلہ کرے۔ 

حافظ نعیم الرحمان نے دیگر رہنماؤں  کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا، پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ، جنرل سیکرٹری امیر العظیم، شکیل ترابی سمیت دیگر موجود تھے ۔ 
 امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ آج پورے ملک میں زبردست ہڑتال جاری ہے، ہڑتال کی کال اسرائیلی مظالم کے حوالے سے ہے، بھارت نے عملا جنگ کا اعلان کیا ہے مختلف اقدامات کرکے، ایسی صورتحال میں قوم متحد ہوکر ایسی جارحیت کا مقابلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا معاملہ غیرت ایمانی کا معاملہ ہے غزہ میں بربریت کو دنیا نے تسلیم بھی کیا ہے، اسرائیل نسل کشی کررہا ہے گزشتہ سو سال سے فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کرنا اور قتل کرنا کیا جاتا رہا ہے اس وقت عروج پر ہے، بدقسمتی جو قوتیں انسانیت کا دم بھرتی ہیں وہ فلسطین کا ساتھ دینے کی بجائے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، حماس عالمی قوانین کے تحت مزاحمت کررہا ہے۔ 

گلیڈئیٹرز vs کے کے؛  روسو حسن علی کا تیسرا شکار بن گئے

حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام ساری صورتحال کو دیکھ رہی ہے قوم فلسطین کے ساتھ ہے، ہڑتال نے ثابت کردیا قوم اسرائیل کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کی جتنی بھی اقسام ہیں اس میں بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ہے اور انکا سرپرست امریکہ ہے، بھارے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درامد نہیں کرتا، بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کی ہے، ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں لیکن کوئی بھی زمہ داری کے لیے تیار نہیں۔ 

قذافی سٹیڈیم میں کوئٹہ گلیڈئیٹرز اور کراچی کنگز کے میچ  میں ڈرامائی آغاز 

انہوں نے کہا کہ بھارت ہر چند ماہ بعد ڈرامہ کرتا ہے انہوں نے خود ہی پہلگام کا واقعہ کروایا سیاحوں کو قتل کروایا پھر چند منٹ بھی ایف آئی آر درج کروادی گئی، بھارت کا یہ ڈرامہ بھی بری طرح پٹ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں نائب صدر امریکہ کا وہاں آیا تو اس نے ہمدردی کے لیے کام کیا لیکن بھارے پہلے کی طرح پھر ایکسپوز ہوگیا ، اس سے قبل بھی بھارت جب کوئی دوسرے ملک کا رہنما آتا تھا تو ایسے ڈرامے کیے جاتے رہے ہیں۔

وفاقی کابینہ نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی تشکیل دیدی

حافظ نعیم الرحمان بھارت پاکستان کے خلاف کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے، اب اس نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا کہا ہے یہ اسکا بچپنا ہے، معاہدہ ختم کرنا ہوگا تو حتمی فیصلہ دونوں فریق طے کریں گے اکیلے بھارت کچھ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو جس طرح ردعمل دینا چاہیے اس میں کمی ہے، آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہیے پوری قوم کو کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہیے ایک بہترین پیٍغام دینا چاہیے، آج خوشی ہے پوری قوم ہڑتال کررہی ہے، بلوچستان کے لوگ بھی اس ہڑتال میں شامل ہیں، آپ سوچ سکتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام اسرائیل اور بھارت کے خلاف ہیں، ہمیں بلوچوں کو اعتماد دینا ہوگا انکے مسائل کو سننا ہوگا۔ پوری قوم نے جماعت اسلامی کی کال پر ہڑتال کی ہے ہر تاجر اور دکاندار کو سراہتا ہوں۔ 

صدر مملکت سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہم ملاقات

انہوں نے کہا کہ  کل ایک اسرائیلی وفد بھارے پہنچا ہے یہ مل کر انسانیت دشمن کرتے ہیں، سکھوں کا برا حال ہے، آسام،ناگا لینڈ،ہماچل پردیش سمیت دیگر ریاستیں بھارے سے نجات چاہتی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت ہمیں اتحاد کا ثبوت دینا چاہیے ہمارے بہت سارے اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اس وقت سب کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، اسکے لیے حکومت اور فوج کو بھی سنجیدہ اقدام اٹھانے ہونگے، ہم اپنے سکیورٹی کونسل کے فیصلوں کو سراہتے ہیں۔

تمام نجی تعلیمی ادارے کل بند رہیں گے

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم ایک نیوکلئیر پاور ہیں ہمیں اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر کو نہیں بھولنا چاہیے، آج ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہمیں دنیا میں سفارتی محاز پر تیزی لانی ہوگی، امریکہ نے ہمیشہ ظالموں کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس مسئلے کے لیے ہر طرح کی چیزوں کو استعمال کرنا ہوگا، کبھی یہ برہمن سامراج مزاکرات کے ذریعے کشمیر نہیں دے رہے، لڑے بغیر کشمیر حاصل نہیں ہوگا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی دینا چاہیے پوری قوم کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی