پنجاب پولیس کے اہلکار کی سکھ بزرگ خاتون کو گلے لگا کر کلام پڑھنے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
پولیس اہلکار نے ایک ضعیف سکھ خاتون کو گلے لگایا اور انہیں اپنی ماں کہتے ہوئے جذباتی انداز میں نظم پڑھی۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے تاہم سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد کیلئے کرتارپور راہداری معمول کے مطابق کھلی ہے۔ حال ہی میں کرتارپور راہداری پر پنجاب پولیس کے اہلکار کی سکھ یاتریوں کے استقبال کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں اہلکار کے جذباتی انداز نے پاکستان کی مہمان نوازی کی خوبصورت عکاسی کی۔
ویڈیو میں پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کو سکھ یاتریوں کا استقبال منفرد انداز میں کرتے دیکھے گیا۔ اس موقع پر پولیس اہلکار نے ایک ضعیف سکھ خاتون کو گلے لگایا اور انہیں اپنی ماں کہتے ہوئے جذباتی انداز میں نظم پڑھی، اس دوران موقع پر موجود سکھ یاتری اور مقامی افراد بھی جذباتی ہوگئے جب کہ ضعیف خاتون اہلکار کے سینے سے لگ کر روتی رہیں۔ ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے احترام و محبت بھرے تبصرے شیئر کیے جارہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔