پہلگام واقعہ ،وزیراعظم کاغیر جانب دارانہ تحقیقات میں تعاون کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
کشمیر ہماری شہ رگ، پانی ہماری لائف لائن ، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرینگے، مسلح افواج تنظیم اتحاد اور قومی مفاد کی تکمیل اور عزم کا نشان ہیں، امن کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں، ہمسایہ ملک نے بغیر ثبوت الزام تراشی کی
پہلگام واقعے میں بغیر ثبوت بھارت نے الزام تراشی کی، کسی مہم جوئی کی صورت میں 2019 کی طرح منہ توڑ جواب دینگے،امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، وزیراعظم کا کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ امن ہماری خواہش ہے، لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے،کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور بین الاقوامی تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، بھارت نے پہلگام واقعے پر بغیر ثبوت کے الزام تراشی کی، پانی ہماری لائف لائن ہے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ ہماری مسلح افواج تنظیم، اتحاد اور قومی مفاد کی تکمیل اور عزم کا نشان ہیں، پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ایک نام رکھتی ہیں۔ان کا کہنا تھا پاکستان عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن اور مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینا ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا پاکستان نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ کسی کی قربانیاں نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا ہمارے ہمسایہ ملک کی طرف سے بغیر ثبوت پاکستان پر الزام تراشی کی گئی، پہلگام واقعے پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ شروع کیا گیا، پاکستان پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے۔بھارت کی جانب سے آبی جارحیت پر انہوں نے کہا کہ پانی ہماری لائف لائن ہے، اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، پاکستان اپنی سلامتی اور خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کریگا، کوئی مہم جوئی ہوئی تو فروری 2019 کی طرح منہ توڑ جواب دیں گے، پاکستان کا پانی روکنے کی ہر کوشش کا قومی طاقت سے جواب دیں گے۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا وطن عزیز کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، قومی وقار اور مفاد کیخلاف ہر مہم جوئی کا مقابلہ کریں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں، سرمایہ کاری میں اضافے اور اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات سے متعلق نائب وزیراعظم نے کابل کا دورہ کیا، افغانستان کے ساتھ پْرامن اور مستحکم تعلقات چاہتے ہیں، افغان حکومت فتنہ الخوارج کے ہاتھوں اپنی سرزمین کا استعمال روکے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا، دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ کسی کی قربانیاں نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج تنظیم، اتحاد اور قومی مفاد کی تکمیل اور عزم کا نشان ہیں، پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ایک نام رکھتی ہے۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داریوں سے مکمل آگاہ ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی ذمے داریاں پوری کرتے رہیں گے۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر عالمی سطح پر متنازع علاقہ ہے، کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینا ہو گا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات سے متعلق نائب وزیرِ اعظم نے کابل کا دورہ کیا، افغانستان کے ساتھ پُرامن اور مستحکم تعلقات چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔