ہمالیائی برف 23 برس کی کم ترین سطح پر، کروڑوں انسانوں کے لیے خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 اپریل 2025ء) انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) کی پیر 21 اپریل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں برف میں کمی کا یہ رجحان مسلسل تیسرے سال بھی جاری ہے اور خطے میں پانی سے متعلق سلامتی داؤ پر لگا رہا ہے۔
ہمالیہ۔
ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ افغانستان سے میانمار تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ آرکٹک اور براعظم انٹارکٹیکا کے بعد برف اور گلیشیئرز کے سب سے بڑے ذخائر اسی خطے میں ہیں۔ یہ ذخائر تقریباً دو ارب انسانوں کے لیے تازہ پانی کا اہم ذریعہ ہیں، جبکہ زراعت، گھریلو استعمال اور دیگر ضروریات کے لیے بھی انہی ذخائر پر انحصار کیا جاتا ہے۔ خشک سالی جیسے خطرات میں اضافہ 'آئی سی آئی ایم او ڈی‘ کی اس تازہ رپورٹ کے مطابق خطے میں موسمی برف کا تسلسل (برف کا زمین پر رہنے کا دورانیہ) معمول سے 23.
(جاری ہے)
رپورٹ کے مرکزی مصنف شیر محمد نے بتایا، ''رواں سال برفباری جنوری میں دیر سے شروع ہوئی اور سردیوں کے موسم میں بھی اوسطاً کم ہی رہی۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس کمی کے نتیجے میں دریاؤں کے بہاؤ میں ممکنہ کمی، زیر زمین پانی پر انحصار میں اضافہ اور خشک سالی جیسے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
خطے کے کئی ممالک نے پہلے ہی خشک سالی کے انتباہات جاری کر دیے ہیں، جبکہ فصلوں کی پیداوار اور پانی کی دستیابی بھی خطرے میں ہیں۔
یہ صورتحال ان آبادیوں کے لیے مزید پیچیدہ ہے، جو طویل، شدید اور بار بار آنے والی گرمی کی لہروں سے نبرد آزما ہیں۔ فوری اقدامات اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورتپاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، چین، بھارت، میانمار اور نیپال انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کے رکن ممالک ہیں۔ اس بین الحکومتی ادارے نے خطے کے 12 بڑے دریائی طاسوں پر انحصار کرنے والے ان ممالک سے بہتر واٹر مینجمنٹ، خشک سالی کی تیاری، ابتدائی انتباہی نظام اور علاقائی تعاون بڑھانے کی اپیل کی ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے دو طویل ترین دریاؤں میکانگ اور سالوین، جو چین اور میانمار کو پانی فراہم کرتے ہیں، نے اپنی برف کا تقریباً نصف حصہ کھو دیا ہے۔
آئی سی آئی ایم او ڈی کے ڈائریکٹر جنرل پیما گیامتشو نے طویل المدتی حل کے لیے پالیسی میں تبدیلیوں پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''کاربن کے اخراج نے ہندوکش سلسلے میں برف کی غیر معمولی کمی کا راستہ ناقابل واپسی بنا دیا ہے۔
‘‘ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ کی ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق ایشیا آب و ہوا سے متعلقہ آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے۔ اس ادارے نے گزشتہ ماہ ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس کے مطابق گزشتہ چھ برسوں کے دوران پانچ برس ایسے تھے، جن کے دوران گلیشیئرز میں تیز ترین کمی نوٹ کی گئی۔ یہ صورتحال اس خطے کے ماحولیاتی استحکام اور انسانی زندگیوں کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات کی نشاندہی کر رہی ہے۔
ادارت: مقبول ملک
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خشک سالی کے لیے دیا ہے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :