دنیا کے امیر ترین بھکاری کا اعزاز بھارت کے شہر ممبئی کے رہائشی بھارت جین کو حاصل ہے۔
بھارت جین کی کہانی روایتی تصورات کو چیلنج کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ محنت، مستقل مزاجی، اور مالی سمجھ بوجھ کے ذریعے غیر متوقع کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
54 سالہ بھارت جین کا تعلق بھارتی شہر ممبئی سے ہے جو کہ پیشہ کے لحاظ سے پچھلے 40 سالوں سے بھیک مانگتے آرہے ہیں۔
اس بھیک مانگنے سے روزانہ ان کی آمدنی تقریباً 2,000 سے 2,500 بھارتی روپے یعنی 8200 پاکستانی روپے ہوتی تھی۔ اس طرح ان کی ماہانہ آمدنی 60,000 سے 75,000 بھارتی روپے بن جاتی تھی۔
بھارت جین نے اپنی آمدنی کو سمجھداری سے استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی۔ ممبئی میں دو فلیٹس، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 1.
اس کے علاوہ انہوں نے دو دکانیں بھی کرائے پر چڑھائیں جن سے ماہانہ 30,000 کرایہ حاصل ہوتا ہے۔
بھارت جین ایک شادی شدہ شخص ہیں اور ان کے دو بیٹے بھی ہیں جو مہنگے اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ اسکے علاوہ ان کے والد، اور بھائی ہیں۔ اگرچہ ان کے اہل خانہ چاہتے ہیں کہ وہ بھیک مانگنا چھوڑ دیں، لیکن وہ اس کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت جین
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔