واشنگٹن:

امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی، کیمبرج، میساچوسٹس میں آج پاکستان کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ اعلیٰ سطحی کانفرنس میں پالیسی ساز، ماہرین تعلیم، کاروباری افراد اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانفرنس میں پاکستان کی حالیہ معاشی کامیابیوں اور استعداد، گورننس اصلاحات، اور عالمی  سطح پر ابھرتے ہوئے کردار کے بارے میں غور و خوض  کیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات جناب محمد اورنگزیب؛ امریکہ میں پاکستان کے  سفیر رضوان سعید شیخ اور نیو یارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی  نے کانفرنس میں  شرکت کی۔

اپنے افتتاحی کلمات میں  سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کانفرنس میں شریک  مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے روشن دماغوں کی موجودگی  کو سراہا جو پاکستان کے بارے میں سوچ بچار کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنے حجم، آبادی اور تذویراتی اہمیت کے اعتبار سے اتنا اہم ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان پر سنجیدہ، معروضی اور تعمیری بات چیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سفیر  پاکستان  نے اس امر کو اجاگر کیا  کہ آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں  کہیں بھی ہونے والی پیش رفت کے عالمی اثرات ہوتے ہیں  جس سے سفارت کاری  کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ 

انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سفارت کاری کو اجتماعی کوششوں کے ذریعے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ "تاریخ کی واپسی" کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا  کہ ابھرتا ہوا عالمی منظر نامہ اقوام کے درمیان زیادہ تعاون کا  طلب گار  ہے۔  

رضوان سعید شیخ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے، اور اس کی پوری توجہ  اپنے جغرافیائی محل وقوع  سے استفادہ کرتے ہوئے  زیادہ سے زیادہ اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے  فروغ پر مرکوز ہے۔

اپنے کلیدی خطاب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی حالیہ معاشی پیش رفت کا خاکہ پیش کیا۔

معاشی  کامیابیوں کا ذکر کرتے  ہوئے وزیرِ خزانہ نے اس امر کو اجاگر کیا کہ افراطِ زر تاریخی کم ترین سطح 0.

7 فیصد  پر جا چکا ہے،  زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، قومی کرنسی  میں  استحکام آیا ہے اور دہائیوں کے بعد مالی سرپلس  حاصل ہوا ہے۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام کا سنگ ِ میل عبور کرنے کے بعد پاکستان کی توجہ اب ایک مسابقتی، جامع اور پائیدار معیشت کی تعمیر کے لیے طویل مدتی اقتصادی تبدیلی پر مرکوز ہے۔

انہوں نے سوال و جواب کے سیشن کے دوران شرکاء سے بات چیت کی اور  پاکستان کے مالیاتی انتظام، اصلاحاتی اقدامات اور ترقیاتی ترجیحات کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔

کانفرنس میں اقتصادی جدیدیت، علاقائی استحکام، اور موسمیاتی تبدیلی  سے نمٹنے کی استعداد  سمیت اہم موضوعات پر بصیرت انگیز پینل مباحثے بھی شامل تھے۔

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نامور مقررین نے پاکستان کو درپیش مواقع اور چیلنجز کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک ثقافتی  ایونٹ  کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں  پاکستان کے بھرپور اور متنوع ورثے کی نمائش کی گئی۔

ہارورڈ پاکستان کانفرنس نے عالمی سامعین کے سامنے پاکستان کی اقتصادی صلاحیت، اصلاحاتی ایجنڈے اور مثبت نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔ اس نے بین الاقوامی تعلیمی اور سیاسی اداروں کے ساتھ پاکستان  کے روابط  کو مضبوط کرنے اور ملکی استعداد،  میسر مواقع اور مستقبل کے حوالے سے پیش رفت کے بیانیے کو فروغ دینے کا موقع فراہم کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کانفرنس میں کے بارے میں پاکستان کی پاکستان کے نے اس بات

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف