امان اللہ خان کو ان کی نویں برسی پر لبریشن فرنٹ کا خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
محمد رفیق ڈار نے مظفرآباد سے جاری ایک بیان میں کہا کہ امان اللہ خان ایک عظیم انقلابی رہنما تھے جنہوں نے اپنی انتھک سیاسی و سفارتی کوششوں اور پختہ سیاسی و نظریاتی سوچ سے کشمیر کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے اپنے سپریم کمانڈر امان اللہ خان کو ان کی 9ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جے کے ایل ایف کے ترجمان محمد رفیق ڈار نے مظفرآباد سے جاری ایک بیان میں کہا کہ امان اللہ خان ایک عظیم انقلابی رہنما تھے جنہوں نے اپنی انتھک سیاسی و سفارتی کوششوں اور پختہ سیاسی و نظریاتی سوچ سے کشمیر کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے امان اللہ خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کشمیر کاز کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید اشفاق مجید وانی، شہید شیخ عبدالحمید، شہید ڈاکٹر عبدالاحد گورو اور شہید شبیر صدیقی سمیت لبریشن فرنٹ کے درجنوں رہنمائوں اور ہزاروں کارکنوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک سمیت ہزاروں کشمیری آج بھی بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں نظربند ہیں۔ رفیق ڈار نے کہا کہ امان اللہ خان کی 9ویں برسی کے موقع پر جے کے ایل ایف اور اسٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے رہنما اور کارکنان انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دنیا بھر میں تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امان اللہ خان نے کہا کہ کشمیر کی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔