زباں فہمی نمبر246کشمیر اور اُردو (حصہ دُوم)
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
پچھلی قسط میں خاکسار نے عرض کیا تھا کہ جنگ آزادی ہند 1857ء کے تقریباً ساتھ ساتھ ہی ریاست جموّں و کشمیر میں باقاعدہ اردو شعراء منظرعام پر آنے لگے۔ ان میں اوّلین نام کِشتواڑ کے محی الدین محیؔ کا ہے۔ اثنائے مطالعہ رَدِّتحقیق کا سامنا ہوا تو اِنکشاف ہوا کہ یہ تأثر بھی غلط فہمی پر مبنی ہے۔
اس ضمن میں حبیب کیفوی صاحب (مؤلف ’کشمیر میں اردو‘) کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ کشمیر میں فارسی کے اوّلین مقامی شعراء کی فہرست میں شامل، ممتاز سخنورمحمودگامی (1765ء تا 1855ء ) کو یہ اعزاز محیؔ سے بھی پہلے حاصل ہوچکا تھا۔ اُن کا نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں جو یقیناً محمودگامی کی عربی وفارسی دانی اور (مادری زبان کشمیری کے بعد) فارسی میں طبع آزمائی کے سبب، کشمیر میں رائج ہونے والی ریختہ گوئی (یعنی دو۔یا۔ دو سے زائد زبانیں ملا کر شعر کہنے) کا بھرپور عکس فراہم کرتا ہے:
اَلمنّۃ للہ کہ میرا یار ا چھا ہے
وَزِ ماہ رخانِ ما من بسیار اچھا ہے
جانانہ زُلیخانہ چو مستانہ برآمد
اکھیاں کو جو دیکھوں تو خُمار اچھا ہے
صدپارہ کُند خارہ زِہے تِیر نگاہش
مژگان و دو اَبروئے کمان دار اچھا ہے
بر برگِ گُلِ تازہ عرق دانہ شبنم
در لعل لَبَش گوہر شہوار اچھا ہے
شیریں دو اَنارَش بکنار ِ سمن ِ اُو
پروردہ پئے عاشقِ بیمار اچھا ہے
مستانہ زِاِحوال ِ اسیراں بہ تغافل
درکا ر خُود ہوشیار، وہ سرکار اچھا ہے
از پِیر ِ خِرددوش، شُنِیدیم بہ صد ہوش
محمودؔ بِگو شعر، شکربار ا چھا ہے
خطّے کے ہر علاقے کی طرح، وادی کشمیر میں جنم لینے والے اردو کا یہ رُوپ کسی دوسرے علاقے کے اسلوبِ سخن سے ہرگز مماثل یا متأثر نہیں!
یہاں غیرکشمیری احباب کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ محمود گامی نے کشمیری ادب میں اپنی مثنویات لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، یوسف زُلیخا، محمودغزنوی، ہارون الرشید، شیخ صفان اور شیخ منصور کے ذریعے گراں قدر اضافہ کیا۔ اس طرح وہ ریاست جمّوں و کشمیر میں، بہ یک وقت کشمیری، فارسی اور اردو کے سَرخیل شعراء کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ جرمن مستشرق [Orientalist] کارل برکہارڈ
(Karl Burkhard) نے محمود کی مثنویوں ’لیلیٰ مجنوں ‘ اور ’یوسف زُلیخا‘ کا انتخاب جرمن زبان میں ترجمہ کرکے اُنھیں دیارِمغرب میں رُوشناس کرایا۔ وہ مثنوی اور غزل کے علاوہ لوک صنفِ سخن، ’وچن‘ کے بھی مشہور شاعر تھے۔ کشمیر کی پوری شعری تاریخ میں نند رِشی کے بعد، محمودگامی واحد ایسا شاعر ہے جس کا کلام پسندکے ساتھ ساتھ محفوظ کیا گیا اور اُس کے کلام کے کئی مختلف رُوپ (versions) بھی موجود ہیں۔ محمودگامی کو اپنے معاصرین میں ولی اللہ مَٹُّو سے بہت اُنس تھا، جب ولی ؔ کے چھوٹے بھائی کا انتقال ہوا تو گامی نے اُس کا مرثیہ کہا تھا۔
کشمیر میں اسلام کی آمد کے بعد پندرہویںصدی تک عربی زبان خوب پھلی پھُولی اور اِس میں علمی وادبی خدمات بھی انجام دی گئیں، پھر اِس کی جگہ فارسی نے لی تو اُسے سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ سلطان زین العابدین (1420ء تا 1470ء ) کے عہدحکومت میں فارسی زبان وادب کی خوب ترویج ہوئی اور ’’راج ترنگنی‘‘ کا ترجمہ، اُس کے ملِک الشعراء اَحمد کشمیری نے فارسی میں ’بحرالاسمار‘ کے نام سے کیا۔ اس دورمیں صوفیہ کرام کے سوانح نگاری، قصیدہ ودیگر اصناف میں طبع آزمائی کا سلسلہ جاری ہوا۔ محض مردوں ہی نے فارسی میں شعر نہیں کہے، بلکہ خواتین میں بھی فارسی شعرگوئی کا ذوق عام ہونے لگا۔
چک خاندان کے دور میں یوسف چک خود شاعر اور شاعروں کا سرپرست تھا۔ یہ وہی دور تھا جب شیخ یعقوب صرفی نے اپنی دینی کتب کے ذریعے تبلیغ کا کام بطریقِ احسن انجام دیا۔ مغلوں کے اثرات عام ہوئے تو کشمیر میں بھی تصوف کا نقش کمزور ہوتا چلاگیا۔ چونکہ سردست ہمارا موضوع ’کشمیر اور اُردو‘ ہے ، لہٰذا عربی وفارسی کے باب میں اختصار ہی مناسب ہے۔
ایک کشمیری محقق ڈاکٹر اے آر بیگ نے بجا طور پر ہمارے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اہل کشمیر کی مادری زبان کشمیری ہے، جمّوں میں ڈوگری اور لدّاخ میں لدّاخی بولی جاتی ہے، لیکن اردو، ریاست کے لوگوں کے لیے کوئی غیر یا اجنبی زبان نہیں۔ یہاں کے لوگوں نے، ایک صدی سے زیادہ عرصے سے، اردو زبان کو اَپنی زبان سمجھ کر برتا ہے اور اِس کی تعمیر وترقی میں نمایاں حصہ لیا ہے۔.
جنھوں نے اِسے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے توانائی اور وُسعت عطا کی ہے۔ دیا شنکر نسیمؔ، تربھون ناتھ ہجرؔ، رتن ناتھ سرشارؔ، سعادت حسن منٹو، آغا حشر کاشمیری، چراغ حسن حسرتؔ، علامہ اقبالؔ، چکبستؔ، علامہ کیفیؔکے نام اس دعوے کی مستند تصدیق ہیں‘‘۔ یہاں مؤلف موصوف نے کشمیری نسل کے اہل قلم گنوائے ہیں، ورنہ علامہ اقبالؔ معروف معنیٰ میں کشمیری نہیں، پنجابی قرار پاتے ہیں۔ ’’جمّوں و کشمیر میں اردو اَدب۔ سقوطِ ہند سے قبل اور اِس کے بعد‘‘ کے فاضل مؤلف نے مزید کہا کہ ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست جمّوں وکشمیر کے، نوجوان نسل کے شعراء اور اَدیب، ہندوستان کے مشہور اور مستند لکھنے والوں کے دوش بدوش، زبان وادب میں منہمک ہیں اور وہ دھیرے دھیرے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔ اردو کے لیے ریاست میں ایک سازگار ماحول ہے‘‘۔
فاضل بزرگ معاصر محقق ڈاکٹر حامدی کاشمیری نے بجا طور پر لکھا کہ ’’یہ زبان (اردو) ریاست کے تین تہذیبی ولسانی خطّوں یعنی جمّوں، لدّاخ اور کشمیر کے درمیان رابطے کی زبان کا درجہ بھی رکھتی ہے اور اِسی زبان کے توسط سے ریاست کی مختلف اور متعدد لسانی اِکائیوں کے درمیان تہذیبی، سماجی اور سیاسی رشتوں کے استحکام کی ضمانت فراہم ہوتی ہے۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ برصغیر کے مختلف علاقوں سے بھی اردو ہی ترسیلی زبان کا کردار اَدا کررہی ہے‘‘۔ (جمّوں وکشمیر میں اُردو اَدب)
یہاں علامہ اقبال کا ایک ایسا نمونہ کلام پیش کرتا ہوں جو غالباً اُن کے دیگر کلام کی طرح مشہور نہیں:
سَو تدابیر کی، اے قوم یہ ہے اِک تدبیر
چشم ِ اغیار میں بڑھتی ہے اِسی سے توقیر
دُرّ ِ مطلب ہے، اخوت کی صدف میں پنہاں
مل کے دنیا میں رہو مِثلِ حُروفِ کشمیر
کشمیری محقق ڈاکٹر برج پریمی نے وادی میں اردو کے ابتدائی نقوش کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’جب مہاراجہ گلاب سنگھ (1846ء تا 1856ء) نے برطانوی مفادات کے پیش نظر، انگریزوں سے کشمیر خریدا ، اور اس طرح ریاست جمّوں وکشمیر کی حکومت کا قیام عمل میں آیا، تب سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر، دہلی اور لاہور کی حکومتوں کے ساتھ ، کشمیر سرکار کے تعلقات بھی قائم ہوئے جس کے نتیجے میں بعض لوگوں کا باہر آنا جانا، ناگزیر ہوگیا۔ عوامی سطح پر بھی وسائلِ معاش کی تلاش اور تجارتی مقاصد کے حصول کے لیے بھی اِن تعلقات میں اضافہ ہوا۔
اس اختلاط کا نتیجہ یہ ہوا کہ باہر جانے والے سیلانی اپنی فارسی دانی کی بدولت، مروجہ اردو میں شُدبُد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے‘‘۔ برج صاحب کے انکشاف کے مطابق، ڈوگرہ عہد میں ہندوستان کے مختلف شہروں سے نقیبوں کو بُلاکر دربار میں اس غرض سے تعینات کیا گیا تھا کہ وہ ڈوگرہ دربار میں مُغلئی (یعنی مغلوں جیسا: س اص ) جاہ وجلال کا سا انداز پیدا کریں۔ ان نقیبوں کے ساتھ ساتھ اُن کے خاندان بھی تھے جن کی بول چال کی زبان اردو تھی، اس طرح سے بھی اردو کا عمل دخل شروع ہوا‘‘۔ (جمّوں وکشمیر میں اردو اَدب کی نشو نما)۔
ریاست جمّوں وکشمیر میں اردو کو سرکاری سرپرستی تو حاصل ہوئی مگر اس بابت محققین میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ زبان باقاعدہ سرکاری فرمان کے تحت، کب دفتری اور عدالتی زبان بنی۔ کشمیری محقق جناب محمد نظیر فداؔ (سابق پرنسپل ڈسٹرکٹ جج، سری نگر) نے اپنے جامع تحقیقی مضمون ’’اردو بحیثیت سرکاری زبان۔ ایک نایاب دستاویز‘‘ (مشمولہ جریدہ ’اعلیٰ تعلیم‘بابت جنوری تا مارچ 2018ء) میں ارشاد فرمایا کہ باقاعدہ سرکاری زبان کا درجہ دیے جانے کے متعلق مشہور روایات کی کوئی دستاویزی سند نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ڈوگرہ راج میں جوڈیشل اور نان جوڈیشل ٹکٹوں پر اُردو میں عبارت درج کی ہوئی تو ملتی ہے، لیکن اس بابت کوئی سرکاری حکم نظر نہیں آتا۔ یہاں فاضل مضمون نگار نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ڈوگرہ راجہ، مہاراجہ پرتاب سنگھ نے1885 ء میں زمامِ اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد، محکمہ مال اور عدلیہ میں اردو سرکاری زبان کی حیثیت سے متعارف کروادی تھی۔ اس اہم اقدام میں انھیں اردو کے معتبر اہل قلم بشمول خان بہادر مولوی محمد حسین عارفؔ، سالکؔ، چودھری خوشی محمد ناظرؔ، منشی سراج الدین اور شیخ شاہ محمد کا تعاون حاصل رہا۔ ڈوگرہ حکمراں نے 1890ء میں فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان تسلیم کرلیا تھا، چنانچہ جب 1898ء میں سَر والٹر لارنس کشمیر آئے اور اُنھوں نے اراضی کے بندوبست کا سلسلہ شروع کیا تو اُردو ہی میں اندراج کا حکم دیا ، مگر عدالتوں میں فارسی بدستور رائج رہی۔ مولوی عارفؔ صاحب (جج ہائی کورٹ) اور چودھری ناظرؔ صاحب نے اپنے عدالتی فیصلے اردو ہی میں تحریر کیے۔
جامع مسجد، سری نگر میں وعظ پر پابندی کے فیصلے کے خلاف، میرواعظ احمد اللہ حمدانی کی درخواست کا فیصلہ بھی اردو ہی میں دیا گیا تھا۔ محمد حسین آزادؔ کے شاگرد جج عارفؔ کا تقرر 1906ء میں بطور جج ہائی کورٹ اور وزیرِمحاصل ہوا تو اُنھوں نے 2 اپریل 1907ء کو پنڈِت من موہن کولؔ، گورنر کشمیر کو ایک چِٹّھی (نمبر 789) کے ذریعے اردو کو عدالتی زبان قرار دینے کی استدعا کی تو جواب میں گورنر نے بزبان انگریزی لکھا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں، فارسی کی جگہ اردو کو عدالتی زبان کے طور پر اختیار کرنے کی آپ کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں۔ (یعنی اس پر عمل درآمد کیا جائے گا: س ا ص)۔ مجھے سدا آپ کا انتہائی فرماں بردار خام ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہاں ایک لمحے کو ٹھہر کر غور کیجئے کہ
ا)۔ ایک غیرمسلم، صاحبِ اختیار اپنی رعیت میں شامل کسی مسلمان عالم، ادیب اور مُنصِف سے کس عاجزی سے مخاطب ہوا، کیا یہ آج کے دور میں ممکن ہے؟
ب)۔ آج جب اُردو بلاشبہ دنیا کی بڑی زبانوں میں شامل انتہائی معتبر اور مقبول زبان بن چکی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہماری اپنی عدلیہ، پاکستان میں، اردو کو سرکاری، دفتری وعدالتی زبان کے طور پر نافذ کرنے کے اپنے ہی فرمان پر عمل درآمد کرانے میں تادمِ تحریر ناکام نظر آتی ہے؟ کیا اس کے لیے بھی ’بڑی سرکار‘ کی واٹس ایپ کال کا انتظار ہے؟ (کیا جسٹس جوّاد۔ایس۔خواجہ کا فرمان محض ایک عام سرکاری مراسلہ یا سیاسی بیان تھا جس پر اُن کے دور میں اور مابعد عمل درآمد کی کوئی صورت نظر نہیں آتی؟)
خان بہادر مولوی محمد حسین عارفؔ نے 1900ء میں مولانا روم کی 100حکایات کا منظوم اردو ترجمہ اُنہی کی بحر میں کرکے اپنی علمیت کا ثبوت دیا۔ اس کارنامے پر علامہ اقبال نے خوش ہوکر فارسی میں چار اور اُردو میں دو قطعاتِ تاریخ کہے۔ میری ناقص معلومات کے مطابق، علامہ اقبال کی ادبی زندگی میں ایسی کوئی اور نظیر نہیں ملتی۔ علامہ اقبال کا ایک قطعہ کچھ یوں تھا:
روح فردوس میں رُومی کی دعا دیتی ہے
آپ نے خوب کیا اور اِسے خوب لکھا
دردمندانِ محبت نے اِسے پڑھ کے کہا
نقشِ تسخیر پئے طالب ومطلوب لکھا
ہاتف ِ غیب کی امداد سے ہم نے اقبالؔ
بہرِتاریخِ اشاعت ’سخنِ خوب‘ لکھا: 1318ھ
30 مارچ 1928ء کو فوت ہونے والے، طبیہ کالج (دہلی) میں مدفون مولوی عارفؔ نے نو (۹) کتب تصنیف وتالیف وترجمہ کیں جن میں چار قانون سے متعلق ہیں، ابن بطوطہ کا سفرنامہ، قصیدہ بُردہ شریف کا منظوم اردوترجمہ اور آیت الکرسی کا منظوم اردو ترجمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ اُن کی تحریرکردہ قانونی دستاویزات بھی بعد کے آنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں۔
کشمیر کی مختلف زبانوں سے اردو کے ارتباط کے موضوع پر باقاعدہ تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔ نمعلوم کیوں اس جہت میں کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب متعدد تحقیقی کتب میں ایسی کوئی کتاب ابھی تک دکھائی نہیں دی جس میں اس موضوع پر کام شامل ہو۔ یہی نہیں بلکہ مجھے آج تک کسی ماہرِلسان یا ماہرلسانیات کی کوئی ایسی کتاب نظر نہیں آئی جس میں اردو کی برّعظیم کے تمام علاقوں میں ہونے والی تشکیل اور اس کے ارتقاء کا بہ یک مقام جائز ہ لیا گیا ہو، چہ جائیکہ موازنہ کیاجائے۔اس کی بنیادی وجہ اُن ماہرین کی اپنی لسانی معلومات کا محدود ہونا ہے۔
ہمارے یہاں تو لوگ باگ فقط انگریزی سے ترجمہ کرکے پوری پوری کتاب لکھتے چلے جاتے ہیں اور اُن کے مداحِین اُنھیں ماہرِلسانیات قرار دیتے ہیں۔ میرے خیال میں اس مسئلے کا یہ حل ممکن ہے کہ اس باب میں تمام علاقوں کے ماہرین لسانیات کو یکجا کرکے باہمی غورخوض اور بحث مباحثے نیز مشاورت کے بعد، ایسی کوئی کتاب تالیف کی جائے۔ جب یہ جہت سامنے آئے گی تو اُردو کے قدیم ترین ادوار سے آج تک تمام علاقائی زبانوں اور بولیوں سے تعلق اور اشتراک ومماثلت کا باب مزید وسیع اور وقیع ہوجائے گا۔ اس کے بعد دنیا کے دیگر خطّوں کی زبانوں اور بولیوں سے اردو کے اشتراک ومماثلت کے موضوع پر زیادہ کام ہوسکتا ہے۔ خاکسار نے اپنی سی کوشش کی کہ بعض غیرمانوس زبانوں سے اُردو کے تعلق پر ہلکا پھلکا لکھ ڈالا، مگر ظاہر ہے کہ ایک سہیل ؔ کیا کیا کرسکتا ہے، زندگی کے تمام مسائل سے نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ؟ (جاری ہے )
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریاست جم وں وکشمیر ریاست جم وں زبان کا درجہ علامہ اقبال سرکاری زبان عدالتی زبان میں فارسی فارسی میں ساتھ ساتھ کشمیر کی اچھا ہے کے ساتھ اردو کے اردو کو اور ا س کے بعد ردو کے ردو ہی
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔