بھارتی فورسز نے کپواڑہ میں ایک سماجی کارکن کو شہید کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے ہفتے کی رات ضلع کپواڑہ کے علاقے کنڈی خاص میں 43سالہ سماجی کارکن غلام رسول ماگرے کو گھر میں گھس کر گولی مار دی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع کپواڑہ میں ایک 43سالہ سماجی کارکن کو شہید کر دیا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے ہفتے کی رات ضلع کپواڑہ کے علاقے کنڈی خاص میں 43سالہ سماجی کارکن غلام رسول ماگرے کو گھر میں گھس کر گولی مار دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ بعد میں وہ سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پر اسے ایسوسی ایٹڈ ڈسٹرکٹ ہسپتال گورنمنٹ میڈیکل کالج ہندواڑہ منتقل کیا جہاں ابتدائی علاج کے بعد اسے ایس ایم ایچ ایس اسپتال سرینگر بھیجا گیا، تاہم اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ گیا۔ مقتول کے پسماندگان میں صرف اس کی والدہ ہیں جبکہ اس کا دوسرا بھائی چند دہائیاں قبل آزاد جموں و کشمیر ہجرت کر گیا تھا۔ مقتول کی والدہ حاجرہ بیگم نے بتایا کہ ہفتے کی رات تقریبا 11 بجے دو مسلح افراد جو ہندی لہجے میں اردو بول رہے تھے، ان کے گھر میں گھس آئے اور اس کے بیٹے کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ بھارتی مسلح افراد اسے صحن میں لے گئے اور اس پر گولیاں برسائیں۔حاجرہ بیگم نے بتایا کہ میرا بیٹا ایک مزدور تھا جس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ وہ میرا واحد کفیل تھا، اسے کیوں مارا گیا؟ اس نے میری بینائی بحال کرانے کے لیے مجھے آنکھوں کے آپریشن کے لیے سرینگر لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔ میری ایک آنکھ کی بینائی ختم ہو چکی ہے اور دوسری آنکھ میں صرف 30فیصد بینائی ہے۔ غم زدہ ماں نے کہا کہ اس کے الفاظ نے مجھے امید دلائی، لیکن اب وہ نہیں رہے۔ ماگرے کے قتل سے پورے شمالی کشمیر میں صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واضح رہے یہ علاقہ مکمل طور پر بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کے محاصرے میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی فورسز نے سماجی کارکن
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔