رمضان ریلیف پیکیج کی کامیابی، سٹیک ہولڈرز کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
رمضان ریلیف پیکیج کی کامیابی، سٹیک ہولڈرز کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 28 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکیج کی کامیابی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، پیکیج کے تحت مستحق افراد کا وقار برقرار رکھتے ہوئے شفاف انداز میں ادائیگیاں کی گئیں۔
رمضان ریلیف پیکیج کی کامیابی اور مستحقین تک رقوم کی ڈیجیٹل فراہمی کے لئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد کی پذیرائی کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ادائیگی کے جدید طریقہ کار سے رقوم کی منتقلی ممکن ہوئی، ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے رقوم کی منتقلی انتہائی سہل اور شفاف رہی، پروگرام کے تحت 79 فیصد رقوم ڈیجیٹل طریقے سے ادا کی گئیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ادائیگی کے پرانے نظام میں بہت خامیاں تھیں جو کہ اس جدید نظام سے دور ہوئیں، نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئے، ڈیجیٹل والٹ کے دائرہ کار کو ملک بھر میں توسیع دیں گے۔انہوں نے کہا کہ مربوط نظام کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے عمل میں صوبوں کو بھی شامل کریں گے، الحمدللہ ٹیم ورک کی بدولت مستحق خاندانوں کو رقوم کی فراہمی ممکن ہوئی ، آئندہ سال ڈیجیٹل طریقے سے 100 فیصد فنڈز کا استعمال یقینی بنائیں گے۔
تقریب میں سیکرٹری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام عامر احمد علی نے پی ایم رمضان ریلیف پیکیج اور ڈیجیٹل والٹس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعظم شہباز شریف نے پی ایم رمضان ریلیف پیکیج کے نفاذ میں اہم کردار ادا کرنے والے سرکاری اور نجی اداروں کے افسران کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اعزازی شیلڈز دیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کا فرانس سے مزید 26رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ بھارت کا فرانس سے مزید 26رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ دفاع کا معاملہ آئین میں واضح ، وزیر اعلی ، گورنر پختونخوا کو افغانستان سے ڈیل کی اجازت نہیں دینگے ، خواجہ آصف پنجاب میں وی وی آئی پیز کی سیکیورٹی کیلئے 5نئی جیمرز گاڑیاں خریدنے کی منظوری بھارتی شہریوں کے واہگہ بارڈرسے واپس جاتے ہوئے پاکستان زندہ باد کے نعرے ہم بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، ملکی سلامتی کیلئے سب یکجا ہیں، سینیٹ ارکان تربیلہ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ ڈیڈ لیول سے 28فٹ بلند ہوگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔