اسرائیلی فوج نے خوراک کے متلاشی 798 فلسطینیوں کو شہید کردیا، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ / جنیوا (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں مئی سے اب تک خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں کم از کم 798 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے بیشتر کو اسرائیلی افواج نے امدادی مراکز یا قافلوں کے قریب نشانہ بنایا۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی ترجمان روینا شمدا سانی نے بتایا کہ 7 جولائی تک ہمارے پاس 798 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 615 افراد امدادی مراکز کے آس پاس جبکہ 183 افراد امدادی قافلوں کے راستے میں شہید ہوئے۔ ادھر رفح شہر کے شمال مغرب میں ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی گولیوں سے 10 فلسطینی شہید اور 60 سے زاید زخمی ہو گئے۔ خان یونس کے علاقے السطر میں اسرائیلی گولہ باری سے مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) نے بھی غزہ میں جاری ظلم پر شدید ردعمل دیا ہے۔ کوالالمپور میں مشرقی ایشیا کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن کا کہنا تھا کہ اسرائیل گزشتہ 80 برس سے استثنا کے باعث بے خوف ہو چکا ہے اور کھلے عام نسل کشی کر رہا ہے، حتیٰ کہ بچوں کو بھوکا مارنا بھی اب اس کی حکمتِ عملی بن چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔