سندھ حکومت اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا منچھر جھیل کی بحالی کا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
سندھ حکومت اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے منچھر جھیل میں سیلاب اور خشک سالی سمیت دیگر ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بناتے ہوئے "ریچارج پاکستان" منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس ضمن میں صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو سے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریچارج پاکستان منصوبے کے وفد نے ملاقات کی، جس میں سینئر ڈائریکٹر فواد حیات، بریگیڈیئر (ر) محمد امجد آزاد اور دیگر ماہرین شامل تھے۔
ملاقات میں منچھر جھیل کی بحالی، ماحولیاتی خطرات کے تدارک اور مقامی آبادی کی زندگی میں بہتری لانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینئر ڈائریکٹر فواد حیات نے بتایا کہ "ریچارج پاکستان" منصوبہ 8 ملین ڈالر (تقریباً 2.
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر فواد حیات کے مطابق اس منصوبے کا مقصد منچھر جھیل کو سپر فلڈ، شدید بارشوں، ہیٹ ویو اور خشک سالی جیسے چیلنجز سے محفوظ بنانا ہے۔
منصوبے میں 30 کلومیٹر تک جھیل کے قدیم راستوں کی کھدائی و مرمت، جبکہ گاجی شاہ، واہی پاندھی، قصبو، ٹنڈو رحیم خان، حاجی خان شاہانی، ہالیلی ندی اور چھنی جیسے علاقوں میں اقدامات شامل ہیں۔
صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت جھیل کی صفائی، ماحول کی بہتری اور مقامی افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔
انہوں نے جھیل کی بگڑتی ہوئی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہروں اور زرعی زمینوں سے آنے والے گندے پانی، بالخصوص مین نارا ویلی ڈرین، نے جھیل کے پانی کو شدید کھارا کر دیا ہے، جس سے قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈبلیو ڈبلیو ایف جھیل کی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔