بلوچستان میں بھارتی دہشتگردی ، معاملہ دنیا کے ہر فورم پر اٹھا رہے ہیں: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آ باد (نوائے وقت رپورٹ) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور اس کی پراکسیز دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے ایشو پر بالکل کلیئر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اس اس طرح کا کوئی بیان نہیں آیا۔ ترجمان پیپلز پارٹی اس حوالے سے بہتر بیان کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا قریبی دوست ملک ہے، تائیوان کے معاملے پر ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں۔ بلوچستان میں انڈین مداخلت ہوتی ہے اور انڈین پراکیسیز ان واقعات میں ملوث ہیں۔ پاکستان یہ معاملہ دنیا میں ہر فورم پر اٹھا رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان برکس ممالک کی تنظیم میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ برکس کے بارے میں اب جو چیزیں سامنے آرہی ہیں، ہم اس پر کمنٹ نہیں کر سکتے کیوں کہ ابھی ہم اس کے رکن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز