حریت کانفرنس نے ”یوم شہدائے کشمیر“ پر ہڑتال کی کال دیدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے فوجیوں نے 13 جولائی 1931ء کو 22 کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے 13 جولائی کو ”یوم شہدائے کشمیر“ کے موقع پر علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے فوجیوں نے 13 جولائی 1931ء کو 22 کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔ شہید ہونے والے یہ افراد ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھے جو عبدالقدیر نامی ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر سرینگر سینٹرل جیل کے باہر اکھٹے ہوئے تھے جس نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا کہا تھا۔ نماز ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے جب اذان دینا شروع کی تو مہاراجہ کے فوجیوں نے اسے گولی مار کر شہید کر دیا، اس کے بعد ایک اور شخص اذان پوری کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو اسے بھی شہید کر دیا گیا، یوں اذان مکمل ہونے تک 22 کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں اس روز نقشبند صاحب شہداء قبرستان سرینگر کی طرف مارچ کی بھی کال دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13 جولائی 1931ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کشمیری بھارتی تسلط سے آزادی تک اپنی جدوجہد عزم و ہمت سے جاری رکھیں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ 13 جولائی کو مکمل ہڑتال اور شہداء قبرستان کی طرف بھرپور مارچ کریں تاکہ بھارت کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ کشمیری اس کے قبضے کے خاتمے تک ہرگز چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ترجمان نے آئمہ اور خطباء سے بھی اپیل کی کہ وہ لوگوں کو ہندوتوا کی جارحیت سے آگاہ کریں۔
ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت اور اس کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر نے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اقدام کے بعد کشمیریوں پر مظالم تیز کر دیے، ان کے تمام بنیادی حقوق چھین لیے اور انہیں شناخت سے محروم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ 370 اور 35اے دفعات کی منسوخی کا بنیادی مقصد علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے اور اس مذموم منصوبے کی تکمیل کیلئے اب تک لاکھوں بھارتی ہندوﺅں کو کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت کی تمام سازشوں اور چالوں کو ناکام بنانے کیلئے پرعزم ہیں اور وہ حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید کر دیا نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔