پنجاب کالونی میں بجلی و پانی کی بندش پر شدید احتجاج، سڑکیں بلاک، ٹریفک جام
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
کراچی کی پنجاب کالونی میں بجلی اور پانی کی طویل بندش سے تنگ آکر علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا اور دو اہم سڑکوں کو بلاک کر دیا مظاہرے کے باعث قیوم آباد پل سے لے کر ڈیفنس موڑ تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ کورنگی سے صدر جانے والا روٹ مکمل طور پر جام ہو گیا ڈیفنس موڑ سے پنجاب چورنگی جانے والی سڑک بھی بند کر دی گئی جس کے باعث دفاتر اور دیگر مقامات پر جانے والے شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے مظاہرین کا کہنا ہے کہ دادا بائی بلڈنگ کے 80 فلیٹس میں جمعہ کی صبح 11 بجے سے بجلی بند ہے اور بارہا شکایات کے باوجود کے الیکٹرک نے کوئی اقدام نہیں کیا احتجاج کرنے والے افراد نے بتایا کہ جمعہ کے روز کے الیکٹرک کی ٹیم نے پنجاب کالونی اور پی این ٹی کالونی میں کنڈا مافیا کے خلاف کارروائی کی تھی اس دوران جھگڑے کے بعد دادا بائی بلڈنگ کی بجلی بھی کاٹ دی گئی مکینوں کے مطابق کے الیکٹرک انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جب تک جھگڑے میں ملوث افراد معافی نہیں مانگتے بجلی بحال نہیں کی جائے گی مکینوں نے مؤقف اپنایا کہ چند افراد کی حرکت کی سزا پوری عمارت کو دی جارہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور ہیوی ٹریفک سمیت گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ٹریفک پولیس کے مطابق گذری انڈر پاس سے متبادل راستہ فراہم کیا گیا جبکہ کورنگی سے آنے والی گاڑیوں کو خیابان جامی کی طرف موڑ دیا گیا تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم کیا جا سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔