عمران خان کے بچوں کی بات صرف مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی، تحریک کامیاب ہونا ممکن نہیں: شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پارٹی اس وقت شدید اختلافات اور تقسیم کا شکار ہے، موجودہ حالات میں تحریک انصاف کا کامیاب ہونا ممکن نہیں،بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کے لیے کی گئی۔
ہم نیوز کے پروگرام “کوئسچن آور” میں گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا کہ حقیقت میں نہ وہ آئیں گے اورنہ یہ فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے کیا ہے، پارٹی اجلاسوں میں بات گالم گلوچ سے شروع ہو کرگالم گلوچ پر ختم ہوتی ہے،اگرموجودہ قیادت احتجاج میں کامیاب ہوئی تو وہ معذرت کریں گے اورناکامی کی صورت میں وہ خود قیادت سنبھال کرعوام کو نکالنے کا مظاہرہ کریں گے۔
اگرہمارے اپنے پاؤں نہ کاٹتے تو ہم بانی پی ٹی آئی کو مئی 2024 میں رہا کروا چکے ہوتے، علیمہ خان نے مجھے میڈیا پرغدارکہا اور پارٹی سے نکلوایا، خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کیلئے منڈی لگی ہوئی ہے اور صوبے میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں۔
مالی سال 2025: ٹی بلز سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا اخراج ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔