کراچی میں موسم مرطوب: اگلے تین دن کیسے گزریں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے باسیوں کے لیے موسم کے حوالے سے خوشخبری اور احتیاط دونوں سے م تعلق محکمہ موسمیات نے آئندہ 3 دنوں کے دوران ہلکی بوندا باندی اور مرطوب موسم کی پیشگوئی جاری کی ہے۔
پیشگوئی کے مطابق شہر قائد میں جزوی طور پر ابر آلود فضا، رات اور صبح کے وقت ہلکی بوندا باندی کے امکانات جب کہ ہوا میں نمی کا غیرمعمولی تناسب شہریوں کے معمولات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے جب کہ شہر کے ساحلی علاقوں میں جنوب مغربی سمت سے چلنے والی سمندری ہوائیں مرطوب فضا کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔
ہوا کا رخ اگرچہ عموماً جنوب مغربی رہنے کی توقع ہے، تاہم دن کے مختلف اوقات میں مغربی ہواؤں کا دباؤ بھی محسوس کیا جا سکتا ہے، جو موسم میں ہلکی سی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
صبح کے اوقات میں ہوا میں نمی کا تناسب 70 سے 80 فیصد تک ریکارڈ ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو کہ شہریوں کو گرمی کے ساتھ ساتھ چپچپاہٹ اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل سے دوچار کر سکتا ہے۔ شام کے وقت نمی کا تناسب کچھ کم ہو کر 55 سے 65 فیصد تک آنے کا امکان ہے، تاہم فضا بدستور مرطوب ہی رہے گی۔
کراچی میں بارش کا سلسلہ اگرچہ تیز بارش کی صورت میں متوقع نہیں، تاہم رات اور صبح کے اوقات میں بوندا باندی شہریوں کا موڈ خوشگوار ہو سکتا ہے۔ اس بوندا باندی کے باعث درجہ حرارت میں معمولی کمی تو متوقع ہے، لیکن ہوا میں نمی کی شدت شہریوں کے لیے بڑی آزمائش بنی رہے گی۔
دوسری جانب صوبہ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی مون سون کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی، سکھر، دادو، قمبر شہدادکوٹ اور جامشورو جیسے اضلاع میں آج ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جب کہ ساحلی اضلاع جیسے ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور صحرائی علاقہ تھرپارکر میں بھی ہلکی بوندا باندی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسم کی موجودہ صورتحال سے باخبر رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں محدود رکھیں، کیونکہ اس وقت نمی کی زیادتی انسانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ مرطوب موسم میں سانس کے مریضوں، بزرگوں اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔