ساتھی کو دھوکے سے ’سچ بولنے والا‘ انجیکشن لگانے پر چینی شخص بڑی مصیبت میں پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
شنگھائی( نیوز ڈیسک)چین کے شہر شنگھائی میں ایک خطرناک کیس میں ایک ملازم کو اپنے ساتھی کو تین مختلف مواقع پر دوا دے کر بے ہوش کرنے اور اس سے اہم کام کے منصوبے چرانے کے جرم میں جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔
ملزم کا نام لی ہے، جو اپنے ایک کاروباری سفر کے دوران ایک ”سچ بولنے والی دوا“ سے متعارف ہوا۔
دوا کے فروخت کنندہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ”چند قطرے لوگوں کو سچ بتانے پر مجبور کر دیتے ہیں“، جس پر لی نے اس دوا کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے آزمانا شروع کیا۔
لی نے اپنے ساتھی، وانگ، کو تجرباتی مضمون کے طور پر منتخب کیا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ خفیہ طور پر اس مادے کو دے اور پیشہ ورانہ معلومات حاصل کرے۔
اس نے وانگ کو اس دوا کا نشانہ بنایا اور اس کے مشروبات میں چھپ کر دوا ملا دی۔
پہلا واقعہ 29 اگست 2022 کو ایک شام کے کھانے کے دوران ہوا، جب لی نے وانگ کی پیالی میں دوا ملا کر زرد شراب اور بیئر میں شامل کر دی۔ جبائے کچھ بولنے کہ وانگ کو بے ہوشی اور چکرآنے کی شکایت ہوئی۔
دوسرا واقعہ 13 اکتوبر کو ہوا، جب لی نے اسی کوشش میں دوبارہ بیئر میں دوا ملائی اور وینگ کو اس سے چکر آ گئے اور وہ الٹی کرنے لگا۔ تیسرا واقعہ 6 نومبر کو ہوا، جب لی نے دوا کو کرسنتھیمم چائے میں ملا کر وانگ کو پلائی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گیا اور اگلے دن ہسپتال گیا۔
تحقیقات کے بعد وانگ کے جسم میں کلونازپام اور زیلازین جیسی طاقتور ادویات پائی گئیں، جو مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے بعد لی نے اعتراف کیا کہ اس نے تینوں بار دوا دی تھی۔
عدالت نے لی کو دھوکہ دہی کے ذریعے منشیات دینے کا مجرم قرار دیتے ہوئے اسے تین سال تین ماہ کی سزا اور 10,000 یوآن (تقریباً 1,400 امریکی ڈالر) جرمانہ عائد کیا۔
اس واقعے نے نہ صرف کام کی جگہ پر اعتماد کو متاثر کیا بلکہ یہ ایک سنجیدہ خطرے کی علامت بن گئی ہے جس میں ایک شخص اپنے مفاد کے لیے دوسرے کی صحت کے ساتھ کھیلتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔