Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:22:11 GMT

فرخ کھوکھر کا جمیعت علمائے اسلام میں شمولیت کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

فرخ کھوکھر کا جمیعت علمائے اسلام میں شمولیت کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد کی سماجی شخصیت فرخ کھوکھر نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا، باقاعدہ شمولیت کا اعلان مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی کے مطابق فرخ کھوکھر 18 جولائی کو ڈیرہ تاجی کھوکھر میں مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں جے یوآئی (ف) میں شامل ہوں گے، فرخ کھوکھر جے یو آئی میں شمولیت کے بعد باقاعدہ اسلام آباد سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کریں گے۔

فرخ کھوکھر سابق ڈپٹی اسپیکر نواز کھوکھر کے بھتیجے اور سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے چچازاد بھائی ہیں، امیر جے یوآئی اسلام آباد پیر مفتی اویس عزیز بھی ملاقات میں موجود ہوں گے۔

یاد رہے کہ فرخ کھوکھر خطہ پوٹھوہار کی جانی مانی شخصیت تاجی خان کھوکھر مرحوم کے صاحبزادے ہیں، ان کی جانب سے اپنے فیس بک پیج پر ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ 18 جولائی بروز جمعہ مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں ڈیرہ تاجی خان کھوکھر پر شام 4 بجے پریس کانفرنس کی جائے گی، جس میں وہ باقاعدہ جمعیت علمائے اسلام میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کریں گے۔

فرخ خان کھوکھر نے مذہبی شخصیات اور بالخصوص قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ ختمِ نبوت کے ایشو پر جرات و بہادری سے کردار ادا کرنے پر جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

Post Views: 8.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحم ن علمائے اسلام فرخ کھوکھر میں شمولیت شمولیت کا

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل