70 ہزار پاکستانی مئی میں بیرون ملک چلے گئے ہیں : مصطفیٰ نواز کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاہے کہ صرف مئی کے مہینے میں 70 ہزار پاکستانی بیرون ملک چلے گئے ہیں جو کسی بھی مہینے میں بیرون ملک جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے ۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہناتھا کہ میں بزنس ریکارڈر کا آڈیٹوریل پڑھ رہا تھا جس میں بتایا گیا کہ 70 ہزار پاکستانی مئی کے مہینے میں ملک چھوڑ کر چلے گئے ، یہ کسی بھی مہینے میں ملک سے جانے والے سب سے زیادہ پاکستانیوں کی تعداد ہے ، پہلے چھ مہینوں میں تین لاکھ پاکستانی ملک سے باہر گئے ہیں۔
حیدرآباد : گھریلو جھگڑے نے دو جانیں لے لیں، شوہر نے بیوی کو قتل کیا، ورثا نے شوہر کو مار ڈالا
انہوں نے کہا کہ یہاں پر کسی کو مواقع نہیں مل رہے ، 22 فیصد ملک میں بیروزگاری کی شرح ہے ، لارج سکیل مینوفیکچرنگ منفی میں ہے ، ہماری ذراعت ، پانچوں بڑی فصلیں بحران کا شکار ہیں، سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقہ دے رہا ہے ، جن کو ٹیکس دینا چاہیےوہ نہیں دے رہے، ہم یہاں کیسے پہنچے؟ اس لیے پہنچے کہ ہم ملک میں سیاسی مفاہمت نہیں پیدا کر سکے ۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مہینے میں
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔