ویب ڈیسک: افغان ٹیکسی ڈرائیوروں نے گرمی سے بچنے کیلئے انوکھا حل ڈھونڈ لیا ۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے شہر قندھار میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے اور گاڑیوں کے اندر موجود اے سی بھی اکثر خراب ہو جاتے ہیں، ایسے میں روزگار کے لیے ٹیکسی چلانے والے افغان ڈرائیور کافی پریشان ہوجاتے ہیں۔

ان دنوں قندھار میں اس گرمی کے موسم میں ٹیکسیوں کی چھت پر پلاسٹک سے بنے ہوئے ڈبے اور اس میں نصب ایگزاسٹ ٹیوبیں بڑی تعداد میں نظر آرہی ہیں، دراصل افغان ٹیکسی ڈرائیوروں نے گرمی سے بچنے کے لیے خود ساختہ ایئر کولرز بنائے ہیں۔

مون سون : لاہور سمیت کئی شہروں میں بارش

افغان ٹیکسی ڈرائیور نے خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکسیوں پر نظر آنے والی یہ منفرد چیز ایئر کولر ہے جو اے سی سے بہتر کام کرتا ہے، یہ کولر ساری گاڑی میں ہوا پھیلاتا ہے۔

قندھار کے ٹیکسی ڈرائیور گل محمد نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ شدید گرمی میں گاڑیوں کا اے سی سسٹم کام نہیں کرتا تھا اور مرمت بہت مہنگی تھی اس لیے میں ایک ٹیکنیشن کے پاس گیا اور ایک خاص کولر بنوایا جس پر 3 ہزار افغانی ( تقریباً 43 ڈالر) کا خرچ آیا اور اس میں صرف دن میں 2 بار پانی بھرنا پڑتا ہے اور پوری گاڑی کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

بھارتی مسافرطیارہ  کیسے گرا? ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی  

دوسری جانب مسافروں نے بھی گرمی کے اس تخلیقی حل کی تعریف کی ہے۔

واضح رہے کہ افغان حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں آئندہ ہفتوں میں درجہ حرارت مزید بڑھ جائے گا، ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات افغانستان کے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیں گے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی